تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 177 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 177

144 بہ شخص کے ذہن نشین ہو گیا۔آج کے سب میں گورداسپور کے ہندو، سکھ، عیسائی معززین کثرت سے شریک ہوئے بچے حضور نے تقریر ختم فرمائی اور دعا پر جب ختم ہوا۔بیعت کرنے والے ان تین ایام میں۔و اشخاص داخل سلسلہ حقہ ہوئے۔اللهم فرح (آمين) ریلوے میں نظامات امور عامہ کے ٹکٹ اور چیکہ انظارت امور عامر نے تین روز تک اپنی طرف سے ٹکٹ جاری کئے جن پر نمبر دے دیئے تھے تا کہ معلوم ہو سکے کہ کس قدر آدمی سفر کر رہے ہیں اور اس امر کے معلوم کرنے کیلئے کہ کوئی بغیر ٹکٹ سفر نہ کر یہ خاص طور پر ٹکٹ چیک کرنے کے لئے آدمی مقرر کر رکھے تھے۔اس طرح یہ سفر نباتات خیر و خوبی سے ۲۷ مارچ کی شام کو ختم ہو گیا۔احرار یا ان کے معاونین نے جو سہ ازش سلسلہ کے خلاف کی تھی بعدالت لے کے فضل سے اُن کو اس میں منہ کی کھانی پڑی۔الدُ للهِ رَبِّ الْعلمين " لے سفر گورو اس سے متعلق حضرت خلیفہ میں ان کے مندرجہ بالا را روایت کی صداقت کا زبردست نشان تھے غیروں کے تاثرات جسے سے دیکھ کر سنجید طالب اور روشن خیال غیر احمدی بلکہ غیر مسلم اصحابی بنبان حال و قال سیاه اُٹھے کہ احرار نے جس جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کا ادعا کو رکھا ہے وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط ہو چکی ہے اور احرار کی مخالفت اس کی قوت و شوکت میں اضافہ ہی کا موجب بنتی ہے۔اس تعلق میں بعض تاثرات کا ذکر کیا جانا مناسب معلوم ہوتا ہے۔-1 " راد یہ سمجھتے ہیں یا کم از کم دوسروں پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اتحادیت کو بہت جلد فنا کر دیں گے چنانچہ وہ اسی قسم کے اعلانات شائع کر کے مسلمانوں سے کافی رویہ جمع کر رہے ہیں۔پچھلے دنوں قادیان میں جو احرار کا نفرنس ہوئی اس کا مقصد بھی یہی ظاہر کیا جاتا تھا اور عوام کو یہ بتلایا جاتا تھا کہ قادیان میں احرار کی ایک کانفرنس ہوتے ہی احمدی قادیان کو چھوڑ کر گیا جائیں گے اور ہندوستان ہے احمدیت کا قلع قمع ہو جائے گا۔لیکن بقول شخصے۔ما در چه خیالیم و فلک در چه خیال احترار کے تمام منصوبے بگڑ گئے۔اتوار کا نفرنس کے صدر امیر شریعت پنجاب ، شیر خلافت مینم کانگریس بانی احرار کا نفرنس مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے مخلاف حکومت نے دو گروہوں کے درمیان نے حکم ۲۸ مارچ اپریل ۲۵ در صفحه ،