تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 179 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 179

19A سب سے بڑی بات یہ ہے کہ شہادت کے تینوں دنوں میں کوئی ایک سو کے قریب غیر احمدی مسلمانوں نے بیعت کی۔احمدیوں کو اس کامیابی پر بہت فخر ہے۔چنانچہ چندا احمدیوں نے بخاری صاحب کو امر تسر دیوے اسٹیشن پر صاف صاف کہہ دیا کہ آپ کی مساعی ہمارے لئے عمدہ پھیل لا رہی ہیں اور ہم آپ کے شکر گذار ہیں جس کے جواب میں مولوی صاحب نے فرمایا۔ہمیں بھی سلسلہ احمدیہ سے کوئی عداوت نہیں ، ہاں ہم جہاد کے متعلق مرزا صاحب کی تعلیم کو سخت نا پسند کرتے ہیں۔اگر خلیفہ صاحب اس میں ترمیم کر دیں۔تو باقی باتوں کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے یہ سنہ اخبار " احسان " (لاہور) نے ۲۵ مارچ شانہ کی اشاعت میں لکھا :- اختبار احسان کا نوٹ خلیفہ قادیان کے ایک ہزار مرید سپیشل ٹرین میں آئے۔اور چار ہزار کے قریب اشخاص ادھر ادھر سے جمع ہو گئے سب سے زیادہ تعداد لاہور سے آئی۔مرزائی کیمپ میں کھانے کا وسیع پیمانہ پر انتظام تھا " سے บ ایک سیکھ صحافی کا تیر اسرار ارجن کو ایڈیٹر تیار نین نے اپنی کتاب مخلیفہ قادیان میں خلیفہ قادیان کا استقبال کے زیر عنوان لکھا :- یہ بات تو ظاہر ہے کہ مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب کا دعوی ہے کہ وہ آٹھ کروڑ مہندوستانی مسلمانوں کے نمائندہ ہیں۔برخلاف اس کے خلیفہ قادیان کے تابعدار ایک لاکھ کے قریب ہوں گے۔مگر ناظرین پر منکر حیران ہوں گے کہ ان تاریخوں پر جبکہ خلیفہ صاحب شہادت دینے کے لئے آتے رہے گور و سایر میں احمدیوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہوتی تھی جبکہ دوسرے مسلمان شاید ایک سو بھی موجود نہ ہوتے تھے۔اس سے خلیفہ صاحب اور مولوی صاحب کے اثر کا موازنہ ہو سکتا ہے کہ ایسی جماعت جس کے ارکان سارے پنجاب میں پچپن ہزار بیان کئے جاتے ہیں اپنے خلیفہ کے درشنوں کے لئے دس ہزار کی تعداد میں حاضر ہوتے ہیں اور اس جماعت کے جس کے ارکان صرف گورداسپور میں ہی دس ہزار سے زائد ہمیں ایک سو بھی جمع نہیں ہوئے۔حالانکہ مقدم الذکر صرف گواہ کی حیثیت میں آتے ہیں اور دوسرے بزرگ پر مقدمہ بھی پھیل رہا ہے۔اس سے صاحت واضح ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کا دعوئے حقیقت سے کوسوں دور ہے اور خلیفہ صاحب کے مرید اُن کے حقیقی بھان نثار اور سچے دل سے شه "افضل" قادیان مورخه ه ر ا پریل ها صفحه ۱۰ : ۲ بحواله الفضل ۲۱ مارج ۱۳ صفحه ۶ کالم ۳۔