تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 176
140 تقریر کے بعد آپ نے احباب کو مصافحہ کا شرف بخشا اور پھر فرمایا کہ چونکہ اب گاڑی کا وقت بہت تنگ ہو چکا ہے اس لئے میں سب دوستوں کو بجانے کی اجازت دیتا ہوں۔اس کے بعد حضور بذریعہ موٹر واپس تشریف لے گئے اور سائیکل سوار والنٹیرز آگے اور پیچھے تھے اور شہدام بذرایہ ریل واپس آگئے۔چونکہ ۲۷ مارچ کو حضور نے سرکاری وکیل کی مکر ترجموح کے لئے تشریعیت لانا تھا اس لئے احباب ۲۷ کو حضور کی معیت میں گورداسپور آنے اور حضور کے ساتھ رہنے کے لئے پر جوش جذبہ لے کر واپس آئے " سے تغیر اسفر از تعمیری مرتبہ حضور ۲۷ مارچ کو شہادت کے لئے تشریف لے گئے۔اس سفر کے حالات بھی بالکل سفروں جیسے تھے مگر ان میں حسب ذیل اضافہ کیا جاتا ہے۔فائیان احمدیت کی عزت افزائی آج کے روز حضرت اقدس نے اپنے خدام کی عزت افزائی کیلئے بذریعہ نیل جانا منظور فرمایا حضور بھی تھرڈ کلاس کے ڈبے میں سوار تھے اور اس طرح تمام احمد ی مسافروں کی جو تیرے درجے کا سفر کرتے ہیں عزت کو بڑھا دیا اور اب ہماری جماعت کے کسی غریب مسافر کو افسوس نہ ہوگا کہ وہ کیوں تیسرے درجے میں سفر کرتا ہے۔کیونکہ اُسے معلوم ہو گا کہ اس کے سید و مولیٰ اپنے فدائیوں کے ساتھ تیسرے ڈر ھے میں سفر فرما چکے ہیں حضور خدام کے اس زیر دست جلوس میں گورداسپور کے سٹیشن سے کیمپ میں وارد ہوئے جہاں تھوڑی دیر قیام فرما کر تضور عدالت میں تشریف لے گئے۔آج پہلے ہی وقت میں حضور فارغ ہو گئے۔جلسه نماز ظہر کے بعد ۳ بجے کوٹھی کے وسیع احاطہ میں زیر صدارت ناظر صاحب تبلیغ جلسہ ہوا۔اس جلسہ کا پروگرام جناب مرزا عبد الحق صاحب نے صدر انجمن احمدی گورداسپور کی طرف سے چھاپ کر شائع کر دیا ہوا تھا اس پروگرام کے ماتحت مولوی محمد ند ی صاحب مولوی فاضل نے پیشگوئیوں پر اعتراضات کے اصولی جواب اور مولانا شمس صاحب نے حبیب الرحمن لدھیانوی کے اُن اعتراضات کا جواب دیا جو ایک روز قبل گورداسپور میں اپنی ایک تقریر کے دوران میں سلسلہ احمدیہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام (پر) کئے تھے۔بجے حضرت امیر المومنین مجلسہ گاہ میں تشریف لائے اور ایک عظیم الشان تقریر سال آتی عَلَی الإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُن شَيْئًا مذكورًا ، پر (حقایق و معارف سے پُر فرماتے ہوئے احمدیت کی سچائی کو ایسے طریق سے پیش کیا جو ه الحكم ۲۸ مارچ - ۷ر اپریل ۹۳۵اد صفحه ۷ به