تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 175
روانگی کا جب وقت آیا تو عازمین گورداسپور نے دعاؤں کے لئے ہاتھ اٹھائے اور نہایت خشوع اور خضوع سے بارگاہ ایزدی میں گڑ گڑانے لگے۔ڈھا کے ساتھ خدایان کولے کر یہ گاڑی گورداسپور کو پوتے آٹھ بجے روانہ ہوئی گاڑی اس قدر کھچا کھچ بھری ہوئی تھی بہت سے لوگوں کوگورداسپور تک بیٹھنے کی جگہ نہ ملی۔بٹالہ میں پہنچ کر گاڑی نے انجن کا رخ بدلنا تھا۔اس لئے چند منٹ کا گاڑی کو قیام کرنا تھا۔اس لئے سینکڑوں کی تعداد میں احباب گاڑی سے اتر کر ٹہلنے لگے جس سے تمام سٹیشن بھر گیا۔اس نظارہ کو دیکھنے کے لئے بہت سے غیر احمدی بھی سٹیشن پر جمع ہو گئے تھے جو پلیٹ فارم کے باہر سے دیکھ رہے تھے۔حسب معمول اس دفعہ بھی جلوس کی شکل میں یہ قافلہ گورداسپور میں داخل ہوا۔اور کیمپ میں جا کر اور کھانا کھا کر لوگ جوق در جوقی عدالت کی طرف چل دیئے اور اس وقت تک وہیں کھڑے رہے۔بجیتک امیر المومنین واپس تشریف نہیں لائے حضور کی واپسی پر آج بھی مشتاقان زیارت موٹر کے ساتھ دوڑے اور حضور کے دیکھنے سے سب کے چہروں پر خوشی اور مسرت کی لہریں چمکتی ہوئی نظر آتی تھیں۔حضور نے کیمپ میں آکر کھانا تناول فرمایا اور ہزارہا آدمیوں کو ساتھ لے کر نماز پڑھی حضور دو بجے پھر تشریف لیے گئے۔آج بھی حضور کے جانے کے بعد ناظر صاحب دعوۃ و تبلیغ کی زیر صدارت حسب معمول مجلسہ ہوا جس میں مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ظہور حسین صاحب نے تقریریں کیں۔مولانا شمش نے حضرت مسیح موعود کی میسہ ناصری سے مماثلت پیش کرتے ہوئے بتلایا کہ پہلے میسج پر متوازی حکومت قائم کرنے کا الزام تھا۔جیسے وہ الزام غلط تھا ویسے ہی یہ الزام غلط ہے۔مگر اس الزام نے ایک اور مماثلت کو ثابت کر دیا۔حضور کی واپسی کے وقت تک تمام مشتاقان دی پھر عدالت سے لے کر کیمپ تک جمع ہو گئے اور حضور پرورش طریق سے استقبال کر رہے تھے۔حضور نے والیسی پر چند الفاظ میں تقریر فرمائی جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔حضور نے فرمایا کہ : آج شہادت تو ختم ہو چکی ہے مگر پھر پرسوں کی تاریخ جرح کے لئے مقرر ہوئی ہے۔احباب کو اس تکلیف سے گھبرانا نہیں چاہیے۔کیونکہ ان کے مقابلہ میں جو انعامات اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر فرمائے ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں، اگر وہ انعامات انسان کے سامنے رکھ دیئے جائیں تو انسان یہی کہے گا کہ ہے میرے رب میری تو صرف یہی خواہش ہے کہ میں زندہ کیا جاؤں اور پھر تیری راہ میں مارا جاؤں۔پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر تیری راہ میں مارا جاؤں اور یہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے جاری رہے۔