تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 174
۱۶۳ آئیں گی، مصائب آئیں گے مگر آخر کامیابی ہمارے لئے ہے۔آپ لوگ عبادتیں کریں، دعائیں مانگیں۔اور خدا تعالے کی محبت اپنے دل میں پیدا کریں۔“ آخر میں اس موقعہ پر آنے والے احباب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فرمایا۔تیں سب دوستوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں انکا بھی جو آج کے اکا بھی جو برای یکے میں تمام سفر میں دعا کرتا آیا ہوں کہ خدا تعالے ان تمام دوستوں پر جو آج آئے اپنے خاص خاص فضل نازل فرمائے اور ان پر بھی منسل نازل کرے جو پرسوں آئیں گے " تریکے کے بعد سپیشل ٹرین قادیان کو روانہ ہوئی اور حضور بذریعہ موثرة وران تشریف لائے جس مرک سے موٹر گذری وہاں جاتے اور آتے ہوئے پولیس کا انتظام تھا۔دوسرا سفر 2" مقدمہ کی دوسری تاریخ ۲۵ مارچ تھی۔دشمنان سلسلہ کا خیال تھا کہ پہلے دن تو احمدی سپیشل ٹرین لے کر آگئے ہیں۔اب کہاں آئیں گے اور حضرت امیرالمومنین کو شاید اس دفعہ تنہا آنا پڑے گا۔مگر جماعت میں اس قدر جوش تھا کہ لوگ یہ کہتے تھے کہ اگر ایک ماہ تک بھی ہم کو اسی طرح آنا پڑے گا تو ہمارے اخلاص و محبت میں کمی نہیں آئے گی۔جماعت کے اس اخلاص کو دیکھ کر اور پر زور مطالبہ کوٹ کر نیشنل لیگ کو ریلوے کو پھر تار دینی پڑی کہ گاڑی بیچی جائے۔چونکہ گاڑی کے متعلق مشہور تھا کہ وہ ساڑھے چھ بجے روانہ ہوگی اس لئے جماعت کے افراد اور قریب قریب کی جماعتوں کے سینکڑوں آدمی علی الصباح سٹیشن پر پہنچ گئے تھے۔سٹیشن کا نظارہ بڑا دلفریب تھا سینکڑوں آدمیوں کا اجتماع سٹیشن پر۔۔۔سالانہ جلسہ کی شان کا منتظر پیدا کر رہا تھا۔الفضل فروخت کرنے والے لڑکوں کی آوازیں ساکنین قادیان کے کانوں کو بھی معلوم ہوتی تھیں۔یہ وہ بستی تھی جہاں کسی زمانہ میں معمولی خورد و نوش کی اشیار تک میسر نہ آتی تھیں۔آج یہ حالت ہے کر قادیان ہفتہ وار اخباروں کے علاوہ روزانہ اخبار کی اشاعت کا مرکز بنا ہوا ہے اور دیگر شہروں کی طرح ہم سن رہے ہیں کہ لڑکے شور مچارہے ہیں ” آج کا تازہ پر چہ الفضل “ ہماری یہ کامیابیاں دشمنوں کی آنکھوں میں خار بن کر کھٹک رہی تھیں۔دور دور تک لوگوں کی قطاریں افواج در افواج اور جوق در جوق سٹیشن کی طرف آرہی تھیں۔ن " الحکم " ۲۸ مارچ - ایمیل ۱۹۳ صفحه ۷۵ بد