تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 173
۱۶۲ حضور کا عدالت سے نکلنا تھا کہ ہزاروں انسانوں کا جم غفیر جو عدالت کے سامنے جمع تھا ، پروانہ وار اپنے آقا و مرشد کی موٹر کے گرد جمع ہو گیا اور وہ دیوانہ وار حضور کی موٹر کے ساتھ دوڑنے لگا۔عدالت سے لیکر شیخ محمد نصیب کی کوٹھی تک تقریباً پون میل کا فاصلہ ہو گا۔وہ تمام خدام سے بھرا ہوا تھا۔ان لوگوں کی اپنے امام کو دیکھ کر یہ حالت ہو رہی تھی کہ وہ بے اختیار مسرت اور خوشی سے بھر جاتے تھے۔اُن کے چہروں پر سینکڑوں عیدوں کی خوشی ظاہر ہو رہی تھی۔ہر شخص بڑھ بڑھ کر السلام علیکم کا ہدیہ پیش کر رہا تھا حضور اپنے تقدام کو دیکھ کر مسرت کا اظہار فرماتے اور بار بار وعلیکم السلام فرماتے۔کیمپ میں داخل ہو کر حضور نے کھانا تناول فرمایا اور پر نماز با جماعت ادا فرمائی۔کوٹھی کا وسیع پنڈال نمازیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور سب کے سب لوگ اپنے آق کے ساتھ اپنے مالک حقیقی کے حضور سربسجود ہو گئے۔نماز کے بعد پھر حضور عدالت کو تشریف لے گئے۔کیمپ میں ناظر صاحب دعوة وتبلیغ نے حاضرین کے وقت کو مفید کام میں لگانے اور تبلیغی اغراض کیلئے ایک مجلس منعقد کیا جس میں منتقد نظموں کے علاوہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ایک عالمانہ تقریر کی جس میں ہزار ہا کی حاضری تھی اور سامعین نے مولانا کی تقریر کو بہت تو سقیہ سے سنا اور فائدہ حاصل کیا۔اثرار گورداسپور کی وسعت اخلاق کا اس سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے گورداسپور کے سقوں کو پانی بہم پہنچانے سے روک دیا اور وہ ایسے وقت میں پانی سے انکار کر کے چلے گئے جبکہ بہتیرے لوگ ابھی کھانا کھا رہے تھے اور ہزار ہا بندگان خدا نے ابھی وضو کرنا تھا۔مگر منتظمین کی جواں ہمتی قابل داد ہے کہ انہوں نے بیسیوں والنٹیر لگا کہ پولیس لائن کے کنوئیں سے پانی بھر لیا۔حضور نے دوبارہ پانچ بجے عدالت سے واپس آنا تھا۔پانچ بجے سے پیشتر ہی احباب جوق در جوق عدالت کی طرف جانے لگ گئے اور پہلے کی طرح حضور کی موٹر کے ساتھ ہزارسا مشتاقان بدوڑتے ہوئے کیمپ تک آئے حضور نے کیمپ میں داخل ہو کر اپنے خدام میں تقریر فرمائی اور پیش آمدہ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- مومنوں کو مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ ہم دنیا پر غالب آئیں گے۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ نبی کے ماننے والوں پر زلزلے آئیں گے۔اگر کہا جاتا کہ نبی کے ماننے والوں کے لئے پھولوں کی سیج بچھائی جائے گی تب تو کہا جاسکتا تھا کہ ہمیں مشکلات کیوں پیش آتی ہیں جبکہ اللہ اسی کی سنت یہ ہے کہ وہ انبیاء کی جماعتوں کو کانٹوں پر گزارتا ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم پر بھی مشکلات