تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 164
۱۵۳ بغیر دل صاف ہونے کے جماعت نہیں بنتی اور بغیر جماعت کے بننے کے خدا تعالیٰ کی رحمت اور برکت نازل نہیں ہوتی۔وہ روپیہ جو بغیر دل صاف ہونے کے آئے وہ انسان کے لئے رحمت نہیں بلکہ لعنت کا موجب ہوتا ہے۔وہی روپیہ رحمت کا موجب ہو سکتا ہے میں کے ساتھ انسان کا دل بھی صاف ہو اور دنیوی آلائشوں سے مبرا ہو۔پس مت سمجھو کہ اگر کثرت سے روپیہ آنے لگا تو تم قربانیوں سے آزاد ہو جاؤ گے۔اگر کثرت سے روپیہ آگیا تو ہمارے ذمہ کام بھی تو بہت بڑا ہے۔اس کے لئے اربوں روپیہ کی ضرورت ہے۔بلکہ اگر اریوں ارب روپیہ اجائے تو پھر بھی یہ کام ختم نہیں ہو سکتا۔روپیہ ختم ہو سکتا ہے مگر یہ کام ہمیشہ بڑھتا چلا جائے گا۔پس کسی وقت ہیجماعت میں اس احساس کا پیدا ہو نا کہ اب کثرت سے روپیہ آنا شروع ہو گیا ہے قربانیوں کی کیا ضرورت ہے ، اب چندے کم کر دیئے جائیں اس سے زیادہ کسی جماعت کی موت کی اور کوئی علامت نہیں ہو سکتی۔یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنی موت کے فتوے پر دستخط کر دے پس مت سمجھو کہ ان زمینوں اور بھائیدادوں وغیرہ کی آمد کے بعد چندے کم کر دیئے بھائیں گے۔اگریه رو پید ہماری ضرورت کے لئے کافی ہو جائے تب پھر تمہارے اندر ایمان پیدا کرنے کے لئے تمہارے اندر اخلاص پیدا کرنے کے لئے، تمہارے اندر زندگی پیدا کرنے کے لئے، تمہارے اندر روحانیت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تم سے قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے اور ہمیشہ اور ہر آن کیا جائے اگر قربانیوں کا مطالبہ ترک کر دیا جائے تو یہ تم پر فسلم ہو گا ، یہ سلسلہ پرظلم ہوگا۔یہ تقویٰ اور ایمان پر علم ہوگا " ہے حضور نے نہ صرف جماعت کو قربانی کی طرف متوجہ کیا بلکہ آئندہ آنے والے خلفاء کو : خلفاء کو وصیت وصیت فرمائی کہ - جب تک دنیا کے چپہ چپہ میں اسلام نہ پھیل جائے اور دنیا کے تمام لوگ اسلام قبول نہ کرلیں اُس وقت تک اسلام کی تبلیغ میں وہ کبھی کو تا ہی سے کام نہ لیں خصوصاً اپنی اولاد کو میری یہ وصیت ہے کہ وہ قیامت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھیں اور اپنی اولاد در اولاد کو نصیحت کرتے لے" الفضل" ۷ را پریل ۱۹۴۷ صفحه ۷ کالم ۰۳