تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 163 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 163

۱۵۲ کام کیا یہی حال تحریک جدید کا ہے۔تحریک جدید کا دور چونکہ آدمیوں کا نہیں بلکہ دین کے لئے قربانی کرنے کے سامانوں کا مجموعہ ہے۔اس لئے اس کے دور بھی اگر نہ گھنے بائیں تو یہ ایک عظیم الشان بنیاد اسلام اور احمدیت کی مضبوطی کی ہوگی “ لے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے محض اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ آپ نے قربانیوں کی ابدی ضرور ت پر دائی قربانیوں کی اہمیت نمایاں کرتے ہوئے یہانتک فرمایا کہ :- حر امیرالمومنین کا پر شوکت فرمان یہ یاد رکھو کہ آم کی زیادتی کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ کسی وقت تم اپنے چندوں سے آزاد ہو جاؤ گے۔یا کوئی وقت جماعت پر ایسا بھی آئے گا جب تم سے قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔میں ایک انسان ہوں اور آخر ایک دن ایسا آئیگا جب میں مر جاؤں گا اور پھر اور لوگ اس جماعت کے مخلفاء ہوں گے۔میں نہیں جانتا اس وقت کیا حالات ہوں گے اس لئے ابھی سے تم کو نصیحت کرتا ہوں تا کہ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو ٹھوکر نہ لگے۔اگر کوئی خلیفہ ایسا آیا میں نے سمجھ لیا کہ جماعت کو زمینوں سے اس قدر آمد ہو رہی ہے ، تجارتوں سے اس قدر آمد ہو رہی ہے ، صنعت و حرفت سے اس قدر آمد ہو رہی ہے تو پھر اب جماعت سے کسی اور قربانی کی کیا ضرورت ہے۔اس قدر روپیہ آنے کے بعد ضروری ہے کہ جماعت کی مالی قربانیوں میں کمی کر دی جائے تو تم یہ سمجھ لو وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہو گا بلکہ اس کے یہ معنیٰ ہوں گے کہ خلافت ختم ہو گئی اور کوئی اسلام کا دشمن پیدا ہو گیا جس دن تمہاری تسلی اس بات پر ہو جائے گی کہ رو پیر آنے لگ گیا ہے اب قربانی کی کیا ضرورت ہے۔اس دن تم سمجھ لو کہ جماعت کی ترقی بھی ختم ہوگئی۔میں نے بتایا ہے کہ جماعت روپیہ سے نہیں بنتی بلکہ آدمیوں سے بنتی ہے اور آدمی بغیر قربانی کے تیار نہیں ہو سکتے۔اگر دس ارب روپیہ آنا شروع ہو جائے تب بھی ضروری ہوگا کہ ہر زمانہ میں جاتا سے اس طرح قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے جس طرح آج کیا جاتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کیا بھائے۔کیونکہ ابھی بڑی بڑی قربانیاں جماعت کے سامنے نہیں آئیں۔نہیں چاہیے کہ اگر ایک ارب پونڈ خزانہ میں آجائے تب بھی خلیفہ وقت کا فرض ہوگا کہ ایک غریب کی جیب سے جس میں ایک پیسہ ہے دین کے لئے پیسہ نکال ہے اور ایک امیر کی جیب میں سے جس میں دس ہزار روپیہ موجود ہے دین کے لئے دس ہزار نکالے کیونکہ اس کے بغیر دل صاف نہیں ہو سکتے۔اور " الفضل بیکم مارچ ۱۹۴۶ء صفحه ۳ کالم " خطبه بعد فرموده ۲۲ فروری ۶۱۹۳۵ )