تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 109 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 109

اس مطالبہ کے اعلان سے قبل نہ صرف حضرت امیر المومنین نے اپنی جائیداد وقف فرما دی بلکہ حضور کا منشار مبار سے نہ نےاپنی فرما دی حضور انشادربار معلوم ہوتے ہی چودھری ظفر اللہ خان صاحب اور نواب مسعود احمد خان صاحب نے اپنی جائیدادیں اپنے آقا کے حضور پیش کر دیں جس کا ذکر خود حضور نے بایں الفاظ فرمایا :- میں سب سے پہلے اس غرض کے لئے اپنی جائیداد وقف کرتا ہوں۔دوسر سے چودھری ظفر اللہ خان صاحب ہیں انہوں نے بھی اپنی بھائیداد میری اس تحریک پر دین کی خدمت کے لئے وقف کر دی ہے بلکہ انہوں نے مجھے کہا آپ جانتے ہیں آپ کی پہلے بھی یہی خواہش تھی اور ایک دفعہ آپ نے اپنی اس خواہش کا مجھے سے اظہار بھی کیا تھا کہ میری بجائیداد اس غرض کے لئے لے لی جائے۔اب دوبارہ میں اس مقصد کے لئے اپنی بھائی داد پیش کرتا ہوں۔تیسرے نمبر پر میرے بھانجے مسعود احمد خاں صاحب ہیں انہوں نے گل سُنا کہ میری یہ خواہش ہے تو فوراً مجھے لکھا کہ میری جس قدر جائیداد ہے اُسے میں بھی اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کرتا ہوں " سے حضور نے اس وقف کے لئے ایک کمیٹی تشکیل فرمائی جس کے ذمہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اس وقت فلاں ضرورت کے لئے وقت جائیدادوں سے کتنی رقم لی جائے۔نومبر سا میک قریباً ایک کروڑ روپیہ مالیت کی جائیدادیں وقف ہوئیں ہے وقف زندگی کی وسیع تحریک حضرت ندی کی دور مین نگا نے قبل ازوقت دیکھ لیا تھاکہ جنگ کے اختتام پر ہمیں فوری طور پر تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دینا پڑے گی۔اس لئے حضور نے ۲۴ مارچ 19ء کو وقت زندگی کی پرزور تحریک فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا کہ میرا اندازہ ہے کہ فی الحال دو سو علماء کی ہمیں ضرورت ہے تب موجودہ حالات کے مطابق جماعتی کا موں کو تنظیم کے ماتحت چلایا جاسکتا ہے لیکن اس وقت واقفین کی تعداد ۳۰-۳۵ ہے۔۔اس کے علاوہ گریجویٹوں اور ایم اے پاس نوجوانوں کی بھی کالج کے لئے ضرورت ہے تا پروفیسر وغیرہ تیار کئے جاسکیں۔ایسے ہی واقفین میں سے آئیندہ ناظروں کے قائم مقام بھی تیار کئے جاسکیں گے۔آگے ایسے لوگ نظر نہیں آتے جنہیں نا دیگی قائم مقام بنایا جا سکے۔میری تجویز ہے کہ قین نوجوانوں کو ایسے کاموں پر بھی لگایا جائے اور ایسے رنگ میں اُن کی تربیت کی جائے کہ وہ آئیندہ الفضل" از تاریخ ۲۳ صفر ۱۲ - ۱۳ * له او الفضل ۱۳ نومبر ۱۹۹۲ صفحه ۰۳ "العمل" ٣ بلد ۱۹۳۲ صفر ۵۔