تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 110
۱۰۲ موجودہ ناظروں کے قائم مقام بھی ہو سکیں۔پس ایم۔اسے پاس نوجوانوں کی ہمیں ضرورت ہے“ لے و یونان امیر کا شانا اخلاص حضرت خلیفہ اسی الائی کی اس تحریک پر نوجوانان احمد بیت خدمت دین کے لئے دیوانہ وار آگے بڑھے اور اپنی زندگیاں وقف کیں انخلا محبت کا یہ ایسا شاندار نظارہ تھا کہ اس نے غیر مسلموں تک کو متاثر کیا۔چنانچہ اخبار پرکاش جالندھر) نے لکھا:۔"آپ احمدیت اتحریک قادیان کی طرف دھیان دیں اور آنکھیں کھولیں۔قادیان میں بڑے سے بڑے احمدی نے اپنے لخت جگروں کو احمدیت کی تبلیغ کے لئے وقف کر دیا ہے اور اس پیشہ کو بڑی اور کی درشٹی سے دیکھا جاتا ہے تحریک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے کیونکہ اُن کے لیڈر عالم با عمل نہیں اور سپرٹ مخلصانہ ہے" سے غیر احدی نو جوانوں پر تحریک ا ا ا ا ا ا ا یک ا ا ا ا ا ا ا و ر ا ا ر ہوا، اس کا اندازہ لگانے کے لئے صرف ایک مکتوب درج کیا جاتا ہے۔ایک غیر احمدی دوست اقبال احمد صاحب زبیری بی اے بی ٹی علیگ نے حضور کی خدمت میں لکھا یہ " حضرت امیر المومنین السلام علیکم۔آپ کی جماعت میں ایک صاحب بنام مبارک احمد صاحب میرے ہم پیشہ دوست ہیں۔میرا اور موصوف کا قریباً دو ڈھائی سال سے ساتھ ہے اور ہمارے درمیان بہت گہرے اور مخلصانہ تعلقات قائم ہیں۔۔۔۔موصوف کے ساتھ دو جمیعہ کی نمازوں میں شریک ہوا جبکہ علاوہ وقتا فوقتا الفضل پڑھنے کے آپ کا دیا ہوا خطبہ میں نے شنا وہ خطبے جو میں نے سنے ان میں سے دو قابل ذکر ہیں۔ایک جو ہندوستان اور برطانیہ کے مابین مصالحت کے متعلق تھا اور دوسرا جس میں آپ نے جماعت کے لوگوں سے زندگی وقف کر دینے له الفضل ۳۱ مارچ ایر صفر ۳ + اس پتریک کے مطابق دار دسمبر سر کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ۲۲ نے مندرجہ ذیل واقفین کا حسب ذیل دفتروں میں تقریر فرمایا : مولوی نورالدین صاحب متغیر بی اے (دفتر پرائیویٹ سکرٹی) مرزا بشیر احمد بیگ صاحب بی۔اے ) دفتر و عوت و تبلیغ پیچوہدری عزیز احمر صاحب بی۔اے (دفتر محاسب) ۴- چودھری عبدالباری صاحب بی۔اے (دفتر بیت المال) مولوی برکات احمد صاحب بی می و دفتر اموری است -۶- چودھری عبد السلام صاحب اختر ایم۔اے (دفتر تعلیم و تربیت ) (کالجوں اور سکولوں کے کام کے لئے) A سے پرکاش، و یکی جالندهر شهر ۳۰ ایمیل شواء بحواله الفضل ، ارمنی و صفحه ۳ کالم ۲ اور زعرت داختران درشتی انگاه و ها ها