تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 103 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 103

۹۵ تم بحضور شعار اسلامی کی خاص طور پر پابندی کرنے کا ارشاد فرماتے تھے چنانچہ آپ نے واضح ہدایت دے رکھی تھی :- واقفین اپنے سر کے بال اس طرح رکھیں کہ اس کے کسی حصہ کے بال دوسرے حصہ کے بالوں سے چھوٹے بڑے بالکل نہ ہوں۔خواہ سارہ سے بال چھوٹے ہوں خواہ سارے بال بڑے ہوں لیکن کیساں ہوں پھر فرمایا " داڑھی مومنوں والی ہو اور اس کی تشریح دوسرے موقعہ پر یوں فرمائی :- ایسی داڑھی ہو کہ دیکھنے والے کہیں کہ یہ داڑھی ہے۔باقی رہا یہ کہ کتنی ہو اس کے متعلق کوئی پابندی نہیں۔۔۔۔اصل چیز تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں کی اطاعت کی جائے۔اور ایسے رنگ میں کی جائے کہ لوگوں کو نظر آئے کہ اطاعت کی ہے“ ہشتم حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے واقفین میں جفاکشی اور مشقت کی عادت پیدا کرنے کے لئے اگست ستمبر ۱۹۳۹ ء میں قادیان سے گلو تک پیدل سفر کر دیا۔واقفین کو اپنا سامان (بستر کپڑے وغیرہ ) خود اٹھانے اور کھانا وغیرہ پکانے کا سب کام راستے میں اپنے ہاتھوں سے ہی سر انجام دینے کی ہدایت تھی۔صرف راشن اور برتن اٹھانے کے لئے باربرداری کے انتظام کی اجازت تھی۔اس سفر میں چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ امیر سفر تھے۔اس کے بعد والفین نے زیر امارت مکرم مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی شاید میں ڈلہوزی کی طرف اور اب میں چنبہ کی طرف پیدل سفر کیا۔اگلے سال ۱۹۳۲ء میں مولوی غلام احمد صاحب مولویف افضل بد دولہوی ہی کی زیر قیادت مجاہدین کا قافلہ قادیان سے جموں تک بذریعہ ریل پہنچا جہاں سے پیدل چل کر ۲۰ اگست کو سرینگر پہنچا۔سرینگر سے واپسی پر شدید بارش اور راستہ کی خرابی کے باوجود واقفین نے سرینگر سے جموں تک کا سفر دورات اور ڈیڑھ دن میں پیدل طے کیا۔اے مجامع دین کی یہ پارٹی ، ستمبر سنہ کو واپس قادیان پہنچی رالفضل و ستمبر ۳۷ صفحه ۲ کالم ۳) لله يفضل " ستمبر 19 صفر + حاشیه ء میں کشمیر کا پیدل سفر کرنے والے واقفین : مرزا منور احمد صاحب - ملک سبیعت الرحمن صاحب - مولوی محمد صدیق صاحب - شیخ عبدالواحد صاحب بیچودھری غلام یسین صاحب شیخ ناصر احمد صاحب۔میاں عبدالحی صاحب - مولوی محمد احمد صاحب جلیل - چودھری خلیل احمد صاحب ناصر حافظ قدرت الله صاحب چودھری محمد شریف صاحب ملک عطاء الر مین صاحب مولوی صدر الدین صاحب چودھری کرم الہی صاحب ظفر - چودھری عبد اللطیف صاحب اس سفر میں مجاہدین کے خوردو نوش کے سلمان اور برتنوں کی بار برداری کی خدمت میاں نظام الدین صاحب نے بخوشی سرانجام دی۔