تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 99 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 99

۹۱ کیونکہ اُن کے گزارے اُن کی لیاقتوں اور ضرورتوں سے بہت کم ہیں۔اے دور ثانی کے ان واقعین کی تعلیم کی تکمیل کے لئے ان کی قابلیتوں اور آئندہ ضرور توں نصاب کی تشکیل اور میں کو مد نظر رکھ کر نصاب تجویز کئے جاتے رہے حضور کا منشار مبارک در اصل شروع میں زیادہ لمبی تعلیم دلانے کانہ تھا بلکہ جلد یرونی مالک میں بھیجوانے کا تھا چنانچہ کئی ایک پاسپورٹ تیار کروائے گئے کہ اچانک دوسری عالمگیر جنگ شروع ہوگئی۔اب حضور نے مناسب سمجھا کہ ان واقفین کی مختلف لائنوں میں تربیت کی جائے۔حضور نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کے ساتھ مشورہ کے بعد مختلف لانہیں مثلاً حدیث، فقہ، تغییر منطق وفلسفہ ، تصون مقر فرما دیں اور فرمایا کہ طلبہ کو کہیں کہ ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنی اپنی لائن منتخب کرلیں لیکن چونکہ عربی علوم کی کتب پڑھنے کے لئے بنیادی علم صرف و نحو کا حاصل کرنا ضروری تھا۔اس لئے حضور نے اس علم کا حاصل کرنا ہر واقف کے لئے ضروری قرار دیا۔چنانچہ صرف و نحو کی ابتدائی کتب سے لیکر انتہائی کتب تک سب واقفین کو پڑھنا پڑیں۔لیکن اس کے لئے کلاستر نہیں بنائی گئیں بلکہ نصاب تجویز کر دیا گیا اور کہ دیا گیا کہ ہر واقف اساتذہ سے مدد لے کر اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق جلد سے جلد نصاب ختم کر سے بقیہ علوم کے لئے باقاعدہ کلاسز ہوتی رہیں۔تے صرت میں قانونچہ کھیوالی مصنفہ مولوی خان ملک صاحب کا زبانی یاد کرنالازمی تھا۔اسی طرح آخری کتاب فصول ابری کا امتحان پاس کرنا تھا تو میں نحو میر سے لے کر قافیہ تہذیب التوضیح اور شرح ملا جامی تک سب کتب در سا پڑھائی گئیں اور امتحان پاس کرنے کے لئے کڑی شرائط رکھی گئیں تا کہ ٹھوس بنیادوں پر کمی قابلیت پیدا ہو۔دور ثانی کے واقفین کو وقتاً فوقتاً مندرجہ ذیل اساتذہ نے تعلیم دی :- واقفین کے اساتذہ ۱- حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب (جلالین بینادی اور سخی ۲- مولوی غلام احمد صاحب بعد وہی دن ہے۔حدیث فقہ بخو کتب مسیح موعود ) ۳- مولوی عبد اللطیف صاحب بہاولپوری دصرت ونحو قانونچہ - فصول اکبری - کافیه شافیہ تہذیب التوضيح فقه و کنتر- قدوری- شرح وقایہ - ہدایہ ہم حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی (تصون) ۵ مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری ( علم معانی) با صاحبزادہ سید ابوالحسن صاحب قدسی (مقدمه این خلدون ، مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائلپوری ( فارسی ) ل الفصل ۲ نومبر ۵۳ و صفحه ۱۰ ۱۱ سے اصحاب احمد جلد پنجم حصد سوم صفحه ۱۴۷ سے چونکه قانونچہ پنجابی ۲۴ ١٠ میں تھا اس کے قوانین کا مختصر سا خلاصہ اردو میں لکھوایا گیا جو مکرم مولوی عبد اللطیف صاحب بہاولپوری نے مرتب کیا اور وہی کورس میں رکھا گیا :