تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 80
تاریخ احمدیت جلد ۷ چنانچہ لکھا ہے۔ایک سال چھ ماہ کی متواتر کوشش سے اللہ تعالٰی نے اپنے فضل سے کامیابی عطا فرمائی اور سندھ میں حضور کی خواہش کے مطابق پانچ ہزار ایکٹر زمین مل گئی۔اس میں انجمن کا حصہ ۲۸۶۰ ایکٹر کا ہے۔انتظامی لحاظ سے انجمن کا اس میں اسی قدر دخل ہے جس قدر کہ یک حصہ دار کا ہو سکتا ہے مگر چونکہ الجمن کا سب حصہ داروں سے بڑا حصہ ہے اس لئے ناظر صاحب اعلیٰ اس کمیٹی مذکو ریعنی سنڈیکیٹ کے ممبر ہیں اور اس ذریعہ سے مشترکہ جائداد کے نظم و نسق میں انجمن کا خاص دخل ہے پس اس لحاظ سے ایک حد تک انجمن کے مفاد پر انجمن کے قائم مقام یعنی ناظر صاحب اعلیٰ ہر وقت نظر رکھتے ہیں اور اس کاروبار کے عنوان انشاء اللہ امید افزاء ہیں۔چونکہ پانچ ہزار ایکڑ اچھی زمین کا ایک جگہ پر ملنا مشکل تھا۔اس لئے دو مقامات پر اچھی اچھی زمین منتخب کی گئی جس کی تلاش میں سنڈیکیٹ نے بہت سا مال اور وقت صرف کر کے اسے حاصل کیا۔اور اس انتخاب میں خان صاحب محمد عبد اللہ خان صاحب خلف الرشید نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کو ٹلہ خاص شکریہ کے مستحق ہیں جنہوں نے بڑی محنت اور جانفشانی سے سندھ کے متفرق علاقوں میں پھر پھر کر اسے تلاش کیا۔جزاهم الله خیرا۔ان ہر دو مقامات میں 10-11 میل کا آپس میں فاصلہ ہے۔ایک کا نام احمد آباد اسٹیٹ اور دوسرے کا محمود آباد اسٹیٹ رکھا گیا۔اول الذکر میں ۴/ نومبر ۱۹۳۲ء کو پانی ملا تھا۔جہاں بوجہ تنگی وقت صرف ۵۷۵ ایکڑ زمین میں فصل ربیع بویا جاسکا۔جس کی آمد اند از ۸۱-۹ ہزار ہوئی۔اور دو سرے رقبہ میں چونکہ پانی ربیع گزشتہ ۱۹۳۲ء کے موقعہ پر نہیں ملا تھا۔بلکہ ابھی تک بھی پانی کی مقدار ضرورت سے کم ہے اس لئے رہ گذشتہ سرما ۳۲-۱۹۳۳ء میں خالی رہا۔البتہ موسم خریف میں تین چار سو ایکٹر کپاس اور باجرہ بویا گیا۔اور اس طرح احمد آباد اور محمود آباد میں بفضلہ تعالی اند از ا ایک ہزار ایکڑ کپاس وباجرہ فصل خریف سن رواں میں ہوئی۔جس سے امید ہے کہ انشاء اللہ اندازا تمہیں ہزار روپیہ سنڈیکیٹ کو آمد ہو جائے گی اور آئندہ ربیع بارہ تیرہ سو ایکٹر کاشت ہو چکی ہے۔۲ فروخت جانگداد: اراضیات سندھ کے خرید کرنے کے لئے انجمن کے خزانہ پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔بلکہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس کے متعلق تجویز فرمایا کہ انجمن کی بیرونی متفرق جائدادیں جو مختلف جگہوں پر واقع ہیں یا قادیان کے گرد و نواح کی بکھری ہوئی جائدادوں کو فروخت کر کے روپیہ مہیا کیا جارے اور اس سے سندھ کی زمین خرید کی جائے چنانچہ اس وقت تک ۲۳ ہزار روپیہ کی جائیدادیں فروخت ہو کر سندھ کی اراضیات کے سلسلہ میں روپیہ بھجوایا جا