تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 81
جلد ۲ Al چکا ہے اور اس کے علاوہ کچھ قرضہ بھی بیرونی جماعتوں اور بعض احباب سے لیا گیا تھا جو سب مل ملا کر قریباً چالیس ہزار روپیه ۲۵۶۰ ایکڑ پر انجمن کی طرف سے خرچ ہو چکا ہے جس میں قسط اول اور اخراجات آبادی اور انتظامی شامل ہیں مگر خزانہ انجمن سے کوئی روپیہ نہیں لیا گیا"۔جامعہ احمدیہ کا تبلیغی و تعلیمی وفد (۱۳۶/ نومبر ۱۹۳۲ء کو مولوی ارجمند خان صاحب کی قیادت میں انتیس افراد پر مشتمل جامعہ احمدیہ کا ایک وند ۱۹ قادیان سے روانہ ہوا۔اور ۹/ دسمبر ۱۹۳۲ء کو واپس مرکز میں پہنچا۔اس دورہ کے اصل محرک مولوی ظہور الحسن صاحب مولوی فاضل تھے۔یہ وفد جامعہ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا وفد تھا جس نے قادیان سے چل کر جالندھر، پھلور لدھیانہ انبالہ شہر، دہلی، علی گڑھ اور میرٹھ سے ہوتے ہوئے دیو بند اور سہارنپور تک کا ایک لمبا سفر طے کیا۔اور اس وفد کی ایک عجیب خصوصیت یہ تھی کہ اس کے ارکان دن کو کھیلوں کے میچ میں داد تحسین حاصل کرتے اور رات کو اپنی پر جوش اور معلومات افزاء تقریروں سے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے تھے کہ سبز عمامے پہننے والے قادیان کے عالم بھی عجیب قسم کے ہیں کہ کھیل اور لیکچر ہر دو فنون میں ید طولی رکھتے ہیں۔اوند جہاں جہاں پہنچا اس کا گرمجوشی سے استقبال کیا گیا اور ہر جگہ اپنی تبلیغی و تفریحی صلاحیتوں سے دھوم مچادی۔جالندھر چھاؤنی میں وفد نے جلسہ منعقد کرنے کے علاوہ گورنمنٹ ہائی سکول کو ہاکی کے میچ میں تین گول سے شکست دی۔پھلور میں پولیس ٹریننگ سکول کے ساتھ میچ ہوا۔جس میں ارکان وفد نے کھیل کا اس قدر شاندار مظاہرہ کیا کہ بار بار نعرہ ہائے تحسین بلند ہوتے تھے دوسرے ہاف میں جامعہ نے گول کر دیا جس کے بعد کھیل بے حد تیز ہو گئی اور عین اس وقت جبکہ پانچ منٹ باقی تھے پولیس نے گول اتار دیا۔وہاں کے لوگوں کا بیان تھا کہ اس قدر دلچسپ پیچ پھور میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔میچ کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ کھیل کے دوران میں جامعہ کے وفد کی طرف سے ٹیم کو WELLDONE کی بجائے حبذا کہا جاتا تھا۔چند منٹ بعد تمام ٹریننگ پولیس کلب حتی کہ دو یورپین آفیسروں نے بھی یہی لفظ استعمال کرنا شروع کر دیا۔لدھیانہ میں جلسہ بھی ہوا اور پولیس کلب کے ساتھ میچ بھی۔جس میں جامعہ نے پولیس ٹیم کو ایک گول سے ہرا دیا۔انبالہ میں لوگوں کو دفد دیکھ کر حیرانی پیدا ہوئی ایک شخص کو جب معلوم ہوا کہ یہ لوگ قادیان سے آئے ہیں تو کہنے لگے کہ تبھی ان کے چہروں سے نور اور نیکی کی شعاعیں نکل رہی ہیں۔یہاں بھی جلسہ