تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 79 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 79

تاریخ احمدیت جلد ۶ 64 ”ہمارے موجودہ علماء کی حد سے گری ہوئی حالت کا سدھار خدا ہی ہے جو ہو سکے۔سیرت پاک کی مقدس مجلس میں مولوی وزیر حسن صاحب اور مولوی فتح اللہ صاحب کی ایمان سوختہ پارٹی نے جو انسانیت سوز مظاہرہ کیا وہ ہمارے لئے انتہائی ندامت کا سبب تھا۔ادھر تو ذکر رسول ہو رہا ہے اور ایک ہندو مداح رسول فرما رہے تھے کہ مجھے ڈاکٹروں نے بولنے سے منع کیا ہے کیونکہ میں بیمار ہوں لیکن جس مجلس میں حضرت رسول مقبول ﷺ کا ذکر پاک ہو میں اس میں شریک ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔آپ نے حضرت کی سیرت پر ایک محبت سے ڈوبی ہوئی تقریر بھی کی اور ادھر چار طرف ننگ اسلام پارٹیاں جو انسانیت کش حرکات کر رہی تھیں۔وہ شہد اپن کی انتہائی ڈگری سے کئی ہزار گنا بڑھ گئی تھیں۔آہ خواتین کی نشست گاہ پر بری طرح ڈھیلے برسائے گئے حاضرین، جلسہ پر گالیوں کی بوچھاڑ کی گئی وہ وہ حرکات کی گئیں جن سے شیطنت بھی پناہ مانگتی تھی۔پروپیگنڈا یہ تھا کہ قادیانیوں کا جلسہ ہے۔حکیم خواجہ شمس الدین صاحب کی تقریر ہو رہی تھی۔میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ مولانا کی تعریف کیا ہے۔معلوم ہوا کہ ایک شہداء رسول حنفی تقریر کر رہا ہے۔شروع سے لے کر آخر تک کہیں قادیانیت کا نام تک بھی نہیں سنا۔میں خود قادیانی عقائد سے شدید اختلاف رکھتا ہوں۔لیکن یہاں تو قادیانیت سے کچھ واسطہ ہی نہ تھا۔حضرت آقاء نامدار محمد عربی کی سیرت پر قادیانی حنفی ، ہندو وغیرہ تقریریں کر رہے تھے جو ہمارے لئے انتہائی مسرت کا باعث تھیں پارک میں جو محفل میلاد ہوتی ہے اس میں ہمیں خوب علم ہے کہ قادیانی حضرات برسوں سے شرکت کرتے ہیں انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ جلسہ غیر احمدی مسلمانوں کا ہے بہر کیف خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ غیب سے مسلمانوں کی اصلاح کے سامان کر دے ورنہ ان علماء نے تو مسلمانوں کو کہیں کا بھی نہیں رکھا۔سید اعجاز حسین رضوی • اراضی سندھ کی خرید اب سلسلہ کی ضروریات ایسی صورت اختیار کر چکی تھیں کہ اسلام و احمدیت کی اشاعت کے لئے ایک مستقل فنڈ جاری کرنا ضروری تھا۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں بھی بعض جائدادیں اسلامی کاموں کے لئے وقف کر دی گئی تھیں اسی طرح حضرت عمر کے زمانہ میں کیا گیا۔حضرت فضل عمر ا نے بھی اسی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ۱۹۳۲ء میں ریزرو فنڈ کی مستقل بنیاد رکھی اور سندھ میں زمینیں خرید فرمائیں یہ پانچ لاکھ کا سودا تھا۔جو ہمیں سال میں ادا کرنا تھا۔صدرانجمن احمدیہ کی سالانہ مطبوعہ رپورٹ (یکم مئی ۱۹۳۲ء لغایت ۳۰ اپریل ۱۹۳۲) سے اراضی سندھ کی خرید کے ابتدائی حالات پر روشنی پڑتی ہے