تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 71 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 71

تاریخ احمدیت جلد ۷ سرغنوں کو اس کام کے لئے تیار کر لیا اور ایک روز تین آدمی بندوقوں سے مسلح ہو کر مسجد قصاباں موضع بڑھلاڈا میں پہنچے اور جو مسلمان بھی ملا سے گولی مار دی۔اس طرح تقریباً سولہ مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بنا دیا گیا۔جن میں سے سات جاں بحق ہو گئے اور جو زندہ بچے ان میں سے بعض ہمیشہ کے لئے بے کار ہو گئے۔اس واقعہ سے مسلمان اتنے ڈر گئے کہ کئی روز تک گھروں میں بند رہے اور ان میں سے بعض چوری چھپے حصار اور لاہور پہنچے اور حصار کے افسروں اور لاہور کے اخبار والوں کو اس واقعہ کے بارے میں مطلع کیا اور یہ بھی بتایا کہ مسلمانوں نے اس سازش کے بارے میں اگر چہ قبل از وقت حصار کے ہندو ڈپٹی کمشنر اور سکھ سپرنٹنڈنٹ پولیس کو با قاعدہ اطلاع دی تھی۔لیکن انہوں نے اس بارہ میں کوئی قدم نہ اٹھایا۔اخباروں میں حادثہ بڑھلاڈا کی خبریں شائع ہو ئیں تو ڈپٹی کمشنر کے حکم پر بڑھلا ڈا کے مسلمان محلہ میں تعزیری چوکی بٹھادی گئی اور پولیس کے اخراجات بھی مسلمانوں پر ڈالے گئے۔جس پر حصار کے بے کس مسلمان پنجاب کے مسلمان لیڈروں کے پاس پہنچے اور دادرسی کی کوشش کی لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا آخر بڈھلاڈا کے دو ایک ہوشیار اور صاحب علم اصحاب نے ایک روز مسجد میں سب کو اکٹھا کر کے کہا کہ اگر زندگی چاہتے ہو۔تو جو کچھ ہم کہیں گے اس پر عمل کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ انہوں نے کہا کیا کرنا ہے۔انہوں نے جواب دیا ہم ایسے لیڈر کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتے ہیں جس کے متعلق ہمیں یقین ہے کہ وہ ہمارا ہاتھ بھی بٹائے گا اور ہمیں کامیابی بھی ہو گی۔اس کے بعد خطیب مسجد اور دو سرے عالموں کو مخاطب کر کے یہ قسم لی کہ کوئی مذہبی اختلاف پیدا نہیں کرے گا۔سب حاضرین نے اس کا اقرار کیا جس پر انہوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں بذریعہ تار اپنی دادری کے لئے درخواست کی حضور نے از راہ کرم مکرم جناب صوفی عبد القدیر صاحب کو بھیجا۔جنہوں نے وہاں جاکر حالات کا جائزہ لیا۔اور حضور کی خدمت میں رپورٹ پیش کی۔اس اثناء میں ہندوؤں نے اصل واقعہ دیا دیا۔اور محض ایک ڈاکو کی رپورٹ کر کے آخری تحقیقات مکمل کر دی۔جماعت احمدیہ کی کوشش سے افسران بالا تک معاملہ پہنچایا گیا۔تو یہ جواب ملا کہ مسلمان اپنا کیس خود ہی صحیح رنگ میں پیش نہیں کر سکے۔اس ضمن میں یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ صوفی صاحب بڑھا اڈا میں ایک مسلم ایسوسی ایشن قائم کر آئے تھے اور انہیں یہ ہدایت دے آئے تھے کہ آئندہ جو کام کیا جائے وہ ایسوسی ایشن کے نام سے کیا جائے۔اس ایسوسی ایشن کے صدر نے یکے بعد دیگرے مختلف خطوط اور تار بھجوانے شروع کر دیئے جس پر حضور نے ہدایت دی کہ خاکسار (مظفرالدین) کو بڑھلاڈا بھیجوایا جائے چنانچہ حضرت اقدس سے ہدایات حاصل کرنے کے بعد عید الفطر کے دو سرے روز آدھی رات کو