تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 72 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 72

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ بڑھلاڈا پہنچ گیا اور منڈی کی مسجد میں (جو ہندو آبادی سے گھری ہوئی تھی اور پر خطر جگہ پر تھی) قیام کر لیا اس کے بعد صورت حالات کا جائزہ لیا اور حصار جاکر مسٹر حمزائی ، چوہدری محمد شریف صاحب وکیل مسٹر جلال الدین صاحب بیرسٹر اور مسٹر راجہ حسن اختر ای ایس سی سے ملاقات کی ان لوگوں نے بتایا کہ کیس خراب ہو گیا ہے اور معاملہ دبا دیا گیا ہے لیکن خدا کے فضل سے جلد ہی مسلمانوں کو ہمت دلانے کی کوشش میں میرے لئے پہلا موقعہ پیدا ہو گیا۔اور وہ یہ کہ زیر دفعہ ۷ ۱۰ بہت سے مسلمان اور چند ہندوؤں کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔اور یہ کیس مسٹر حسن اختر ہی کے پاس تھا۔اور ان ہی کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔خدا تعالیٰ کے فضل وکرم اور حضور ایدہ اللہ کی دعاؤں کی برکت سے راجہ حسن اختر صاحب مقدمہ کی سماعت بڑھ لاڈا کے ڈاک بنگلہ میں کرنے کے لئے رضامند ہو گئے۔سماعت کے دن ہندوؤں کی طرف سے ایک بیرسٹر اور ایک وکیل آئے اور مسلمانوں کی طرف سے کوئی بھی پیش نہ ہوا۔صرف صدر صاحب مسلم ایسوسی ایشن نے درخواستیں لکھیں اور ہر ایک کی ضمانت کے لئے اپنے میں سے کوئی نہ کوئی آدمی کھڑا کر دیا۔مسلمانوں کی سب ضمانتیں راجہ صاحب نے منظور کرلیں اور کسی پر اعتراض نہ کیا۔اس کارروائی کا اثر مسلمانوں پر بہت ہی اچھا پڑا۔اس کے بعد کچھ مضامین میں نے انگریزی میں لکھ کر لاہور کے اخبارات کو بھجوائے جو ” ایسٹرن ٹائمز اور اخبار "سیاست" اور دیگر اخبارات میں شائع ہوئے۔قادیان سے بھی برابر کوششیں جاری رہیں۔اور مناسب کارروائی اس ضمن میں ہوتی رہی اور تھوڑے ہی دنوں کے اندر سکھ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی تبدیلی ہو گئی اور اس کی جگہ ایک یوروپین ایس پی حصار میں آگیا۔جس سے میری ملاقات ہی بڑھلاڈا کی تعزیری چوکی کے بارے میں ہوئی میں نے کہا کہ مسلمانوں پر ہی ظلم ہو اور ان پر ہی یہ پولیس بٹھائی جائے اور پھر اخراجات بھی انہیں سے وصول کئے جائیں یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔چنانچہ ایس پی کی تحقیقات کے بعد یہ پولیس وہاں سے ہٹائی گئی۔مسلمان محلہ میں بہت خوشی منائی گئی اور ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔اس کے کچھ عرصہ بعد جب فضا خوشگوار معلوم ہوئی میں نے گت کا اور کبڈی کی تحریک کی اس پر مسلمان محلہ کے نزدیک کھلے میدان میں یہ دونوں کھیل شروع ہو گئے۔ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف افسران بالا کو رپورٹ کر دی اور پولیس کے ذریعہ خفیہ تحقیقات شروع ہو گئی لیکن ثابت نہ ہو سکا کہ یہ کسی تنظیم کی طرف سے باقاعدہ تحریک ہے۔پھر میں نے مسلمانوں کو حوصلہ دلا کر دکانیں کھولنے کی بھی تحریک کی جو کامیاب ہوئی۔بڈھ لاڈا میں چونکہ کوئی احمدی نہ تھا۔اس لئے میں ہر جمعہ مانسہ جایا کرتا تھا جہاں مسٹر محمد علی صاحب بی۔اے ایل ایل بی کے مکان پر نماز جمعہ ہوتی تھی۔اسی جگہ میری پٹیالہ اسٹیٹ کے ایک مخلص احمدی پولیس انسپکٹر سے ملاقات ہوئی۔میں نے ان سے بڑھ لاڈا کے