تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 46
تاریخ احمد بیت۔جلد ہ لام اور الجھانا تھا۔عدالت ہر روز اسے اس امر کی طرف توجہ دلاتی تھی۔کہ اس بے موقعہ اور بے وجہ تطویل کا کیا فائدہ؟ جواب مدعا علیہ کے رد میں جو کہتا ہو کہو۔ر مختار مدعیہ اور مولانا جلال الدین صاحب شمس مختار مدعیہ کی اس بحث کی نوعیت کیا تھی اس کا اندازہ لگانے کے لئے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے قلم سے مقدمہ کے اس حصہ کی بعض باتیں بطور نمونہ درج • کی جاتی ہیں۔بحث کی کیفیت پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے بہاولپور سے لکھا۔" روزانہ بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں جن سے مختار مدعیہ کی خیانت اور جہالت ٹپکتی ہے جن پر عدالت کو توجہ دلائی جاتی ہے۔ان میں سے چند باتیں بطور نمونہ پیش کرتا ہوں۔مختار مدعیہ - ( عدالت کے توجہ دلانے پر کہ بے جا تکرار کو چھوڑو) مختار مد عاعلیہ نے بھی اپنی بحث میں بے جا تکرار کی ہے۔شمس۔بالکل غلط ہے کوئی ایک ہی مثال پیش کرد- مختار مدعیہ خاتم النبیین کے معنی ایک جگہ تو لا اله الا الله محمد رسول اللہ کے عنوان کے ماتحت بیان کئے ہیں اور پھر اس تفصیل کے ساتھ مسئلہ ختم نبوت کے ماتحت بھی۔شمس۔اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ؟ مختار مدعیہ میں جھوٹا ہوں گا۔شمس - نکالو بحث - (انہوں نے بحث نکالی وہاں میں نے صرف حوالہ دیا ہوا تھا کہ چونکہ خاتم النبین کے معنی پر مفصل بحث گواہان مد عاعلیہ اپنے بیان میں کر چکے ہیں اس لئے یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں) شمس - (مختار مدعیہ کو مخاطب کر کے) اب تو تمہارے جھوٹے ہونے میں کوئی شک نہیں۔مختار رعیہ - (عدالت سے مخاطب ہو کر) دیکھو حضور والا! مجھے جھوٹا کہتے ہیں۔شمس۔انہوں نے خود کہا تھا کہ اگر تکرار ثابت نہ ہو تو میں جھوٹا اور ظاہر ہے کہ تکرار ثابت نہیں ہوئی اس لئے یہ اقراری جھوٹے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں۔عدالت نے مختار مدعیہ کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔(۲) شق القمر کے خوف ہونے پر میں نے ایک روایت "روح المعانی" سے لکھی تھی جس کے جواب میں مختار مدعیہ نے کہا کہ صاحب روح المعانی پر افترا کر کے اس کی طرف یہ عقیدہ منسوب کر دیا کہ وہ بھی شق القمر کو ایک قسم کا خسوف سمجھتے تھے۔شمس - (عدالت کو توجہ دلا کر) یہ میرے جواب سے دکھا ئیں کہ میں نے کہاں مولف روح المعانی کی طرف یہ عقیدہ منسوب کیا ہے ؟ مختار مدعیہ - ابھی دکھاتے ہیں۔شمس - دکھاؤ (جب بحث نکالی تو اس میں مولف " روح المعانی" کی طرف یہ عقیدہ منسوب نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ لکھا تھا کہ " روح المعانی " میں ایک روایت موجود ہے جس میں وہی لکھا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں ) مختار مدعیہ - دیکھو یہ عبارت بتاتی ہے کہ مولف ”روح