تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 45
تاریخ احمد بیت - جلد ۶ صفحات پر مشتمل تھا۔مگر عدالت کے سامنے صرف ۴۹ صفحات میں لکھوایا گیا۔یہ مکمل بیان بعد کو اظہار الحق" کے نام سے شائع کر دیا گیا تھا۔جسے مولانا بد و ملی صاحب نے نہایت محنت و کاوش سے لکھا تھا اور اس کی ترتیب میں حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب مختار شاہ جہانپوری نے گرانقدر تعاون فرمایا۔اور راہنمائی کی اور ہر مرحلہ پر اپنے قیمتی اور مفید مشوروں سے نوازا۔۳۱ دسمبر ۱۹۳۳ء کو مقدمہ کی پیروی کے لئے مولانا جلال الدین صاحب شمس ، مولانا شیخ مبارک احمد صاحب اور مولانا شیخ عبد القادر صاحب فاضل بہاولپور تشریف لے گئے اور کچھ عرصہ قیام کے بعد واپس مرکز میں آگئے۔٣ / مارچ ۱۹۳۴ء کو تاریخ پیشی تھی جس میں شمولیت کے لئے مولانا جلال الدین صاحب شمس اور حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب تشریف لے گئے۔اور مولانا شمس صاحب نے مارچ کے پہلے ہفتہ میں مدعا علیہ کی طرف سے بحث مکمل کرلی۔مختاران مدعیہ کا رویہ مختاران مدعیہ کی طرف سے خلل اندازی کا سلسلہ ابتداء ہی سے جاری تھا۔جو بڑی روک کا موجب بنا۔قدم قدم پر طفلانہ ضروں اور خفیف حرکتوں کا مظاہرہ ہو تا رہا۔جس سے بہت وقت ضائع ہوا۔تاہم مولانا شمس صاحب ۶ / مارچ کو بفضل تعالی خاتمہ بحث تک جاپہنچے۔مختاران مدعیہ نے دوران بحث میں اشتعال دلانے کا بھی کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا۔اور یہ آخری بحث بھی اس سے خالی نہ رہی۔جب مختار ان مدعیہ کا اپنے اقوال سے انحراف حد سے گزر گیا۔تو مولانا شمس صاحب نے عدالت کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہ تو ایسی صورت اختیار کی گئی ہے کہ گویا خدا کے وجود کا یقین ہی نہیں ہے تو مختار مدعیہ بگڑ گئے کہ ہماری ہتک کی گئی ہے۔اور گویا ہوئے کہ ہمارا یہاں کھڑا ہونا بے کار ہے اور یہ کہہ کر آپ پیج پر اپنے معاونین کے پاس جا بیٹھے۔مگر پھر اٹھے اور اپنے ایک ہم خیال مولوی صاحب کو جو عدالت کے کٹہرے کے پاس کھڑے بحث سن رہے تھے پکڑ کر گھٹنے لگے کہ چلے آؤ یہاں کھڑے ہونا فضول ہے اور ہٹا کر بیچ پر لے آئے۔پھر باہر نکل گئے۔آخر دس منٹ کے بعد پھر خود ہی واپس آگئے اور بینچ پر بیٹھ گئے۔پھر بیچ سے اٹھے اور اپنی مقررہ جگہ پر کھڑے ہو گئے اور بدستور الجھنے اور تقریر بحث میں خلل ڈالنے لگے۔دیکھنے والے حیران تھے کہ آپ گئے کیوں تھے اور گئے تھے تو پھر خود ہی واپس کیوں تشریف لے آئے ؟ " 8 |1+0 ۷ / مارچ ۱۹۳۴ء کو مولانا شمس صاحب نے جوابی بحث شروع کی۔۲۸ / اپریل سے پھر مقدمہ کی پیشی شروع ہوئی۔تو مختار مدعیہ کی طرف سے جواب شروع کیا گیا جو غیر متعلق باتوں کا مجموعہ تھا جن سے مختار مدعیہ کا مقصور جواب کی بجائے صرف بحث کو بے حاطوالت دیتا