تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 47
تاریخ احمدیت جلد ۷ المعانی" کا یہ عقیدہ ہے۔شمس۔اس میں یہ کہاں لکھا ہے کہ یہ ان کا عقیدہ ہے یہاں تو اس میں ایک روایت کے موجود ہونے کا ذکر ہے۔عدالت۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ مولف " روح المعانی " کا عقیدہ ہے۔(۳) قیامت و حشر پر بحث کرتے ہوئے مختار مدعیہ نے ایک آیت و ما هم منها بخار جین پڑھی۔شمس۔یہ آیت کس پارہ میں ہے ؟ مختار مدعیہ - ( عدالت سے مخاطب ہو کر) ان کے لئے جواب کا موقعہ نہیں یہ کیوں ایسے طور پر دریافت کرتے ہیں ؟ شمس۔کیا تمہارا یہ منشاء ہے کہ قرآن مجید کی طرف بھی اپنی طرف سے آیات منسوب کرتے چلے جاؤ۔۔۔۔مختار مدعیہ کے ساتھی بولے کہ خارجین والی آیت قرآن میں ہے۔شمس - و ما هم منها بمخرجين ہے یا و ما هم بخار جین من النار ہے " و ما هم منها بخار جین " تو کہیں نہیں۔(۴) وحی کی بحث کرتے ہوئے مختار مدعیہ نے کہا کہ آیت رفيع الدرجات ذو العرش يلقى الروح من امرہ میں مذکورہ صفات خداوندی انتخاب کے ساتھ متعلق ہے نہ یہ کہ وحی ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کفار کا اعتراض بھی نقل کیا ہے۔انزل عليه الذكر من بيننا۔ش۔یہ آیت کس سورۃ میں آئی ہے حوالہ دیں؟ مختار دعیہ۔(ادھر ادھر جھانک کر یہاں حافظ صاحب بیٹھے تھے۔حافظ صاحب۔(سوچنے کے بعد سورۃ قمر کی آیت ہے۔شمس۔کیا یہ آنحضرت اللہ کے حق میں ہے؟ مختار مدعیہ (عدالت سے مخاطب ہو کر یہ ان کے جواب دینے کا موقعہ نہیں۔شمس جواب نہ دینے کے موقعہ کے یہ معنی نہیں کہ ہم توجہ بھی نہ دلائیں۔اور تم جو چاہو قرآن مجید کی آیات کو محرف و مبدل کر کے پیش کرتے جاؤ۔دیکھو یہ آیت سورۃ قمر میں ہے حضرت صالح کی قوم ثمود کا قول ہے اور تم کفار مکہ کا بتارہے ہو۔(۵) خاتم النبیین کے معانی بتانے کے لئے مختار مدعیہ نے ایک حوالہ حضرت ملا علی قاری کا پیش کیا تھا اس میں لانبی بعدی کے معنی صاف طور پر یہ لکھتے ہیں کہ ای لا یحدث بعدہ نبی کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہو گا۔نہ یہ کہ پرانا بھی نہیں آسکتا۔شمس - (عدالت سے مخاطب ہو کر) مختار مدعیہ نے اس میں بھی صریح خیانت سے کام لیا ہے کیا اس کے ساتھ ہی یہ نہیں لکھا کہ " ینسخ شرعه " کے ایسا نبی نہ ہو گا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے اس کو چھوڑ دیا اور پہلا حصہ لے لیا۔کس قدر خیانت ہے۔مختار مدعیہ - یہ ان کے جواب دینے کا وقت نہیں ہے۔شمس۔لیکن میں عدالت کو آپ کی خیانت پر توجہ دلا سکتا ہوں"۔A