تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 543 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 543

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۵۲۹ کوشش کو معاف کرنے کو تیار نہیں اور دو سری طرف ہندو مہاسبھا کے صدر شیام پر شاد مکرجی کو بنگال کا نمائندہ سمجھتی ہے۔کیا احرار لیڈر اس امتیاز پر غور کریں گے ؟ انہوں نے کانگرس کی تحریکوں میں ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کیں، محنتیں تباہ کیں۔لیکن اس کا نتیجہ ؟ وہ کانگرس کے نزدیک مردود ہیں اور مہاسبھائی محبوب کانگرس تو ان سے مسلم حقوق کے متعلق بات چیت بھی کرنے کو تیار نہیں۔۱۹۳۹ء کے اواخر میں جب دو احرار لیڈر دہلی پہنچے کہ گاندھی جی سے ہندو مسلم کے تصفیہ کے سلسلہ میں ملیں تو گاندھی جی نے یہ کہلا بھیجا کہ میرے پاس وقت نہیں۔آخر یہ احرار لیڈر اسٹیشن پر پہنچے اور جس ڈبہ میں گاندھی جی واپس جا رہے تھے اس میں سوار ہوئے تاکہ راستہ ہی میں باتیں ہو سکیں۔میرے خیال میں ہر اعزار لیڈر کو یہ معلوم ہو گا کہ گاندھی جی نے ان دونوں لیڈروں سے کیا کہا تھا۔انہوں نے مسلم حقوق کے متعلق احرار سے بات کرنے سے صاف انکار کر دیا کہ مسلم قوم آپ کے ساتھ نہیں ہے۔وہ مسلم لیگ کے ساتھ ہے۔اس لئے ہندو مسلم مسئلہ کے متعلق جب بھی گفتگو ہوگی۔مسلم لیگ سے ہی ہو گی۔۔۔اس سلوک کے باوجود احرار کانگرس سے چھٹے ہوئے ہیں اور اب سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کو محض اس غرض سے صدر بنانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ماد تو کا رہا سہا امتیاز بھی جاتا رہے کیا احرار اپنی اس مضحکہ خیز پوزیشن پر غور کریں گے؟ کانگرس انہیں مسلمانوں کی نمائندگی کا حق دینے کے لئے تیار نہیں اور ان سے مسلم مسئلہ کے سلسلہ میں گفتگو کرنے پر بھی آمادہ نہیں وہ انہیں محض اپنے ایک مہرے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔جب احرار مسلم مسئلہ پیش کرتے ہیں تو گاندھی جی کہہ دیتے ہیں، کہ مسلم قوم آپ کے ساتھ نہیں۔اور جب مسلم لیگ سے گفتگو شروع کی جاتی ہے تو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ تم مسلمانوں کے نمائندہ نہیں کیونکہ احرار وغیرہ مسلم جماعتیں بھی موجود ہیں۔اندریں حالات احرار کی حالت پر افسوس بھی ہوتا ہے اور رحم بھی آتا ہے۔ان کا کام لے دے کر اب کانگرس کے ایک مہرے کارہ گیا ہے"۔Bal احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی الفرض حکومت اور کانگرس کی پشت پناہی کے باوجو د سلسلہ احمدیہ سے ٹکر لینے کا خمیازہ احرار کو "مسجد شہید گنج " کی صورت میں بھگتنا پڑا۔خدا کے محبوب بندہ سید نا امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی کی پیشگوئی کے مطابق احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور انتہائی جدوجہد کے باوجود آج تک واپس نہیں آسکی۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے ایک بار واضح لفظوں میں تسلیم کیا کہ۔" جس نے رسول اللہ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا وہ کبھی نہیں پھولا پھلا۔|