تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 544
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۳۰ نیز ۱۶ / مئی ۱۹۳۵ء کو رام تلاکی سیالکوٹ کے جلسہ عام میں یہ پینگوئی کی کہ۔" مرزائیت کے مقابلہ کے لئے بہت سے لوگ اٹھے۔لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ یہ میرے ہاتھور سے تباہ ہو"۔مگر اس پیشگوئی کا کیا حشر ہوا؟ اس کا جواب مشہور احراری لیڈر جناب شورش کا شمیری مدیر چشمان کے الفاظ میں یہ ہے کہ۔حقیقتہ " احراری اپنی تمام تر صلاحیتوں اور عظیم قربانیوں کے باوجود بد قسمت تھے ان کی مثال بد قسمت جر من قوم کی سی ہے کہ جاں نثاری کے باوجود ہر معرکہ میں ہاران کا نوشتہ تقدیر رہی ہے"۔اس کے مقابل خدا کا یہ اعجازی نشان ظاہر ہوا کہ اس کے ہاتھ سے لگایا ہوا احمدیت کا وہ پودہ جس کے مسل دینے کے لئے ارضی طاقتیں جمع ہو گئی تھیں۔خدا کے فضل وکرم اور آسمانی افواج کی مدد سے نہ صرف پوری شان سے قائم رہا بلکہ عین اس وقت جب کہ اس کے بیخ و بن سے اکھیٹر پھینکنے کی کوششیں انتہا تک پہنچ گئیں خداتعالی کی تقدیر خاص کے تحت اور اس کے القاء سے احمدیت کے فتح نصیب قائد سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے تحریک جدید جیسی عظیم الشان تحریک جاری فرمائی جس سے دنیا میں تبلیغ اسلام کے عالمگیر نظام کی بنیاد پڑی جس کی تفصیل پر انشاء اللہ اگلی جلد میں روشنی ڈالی جائے گی۔وأخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين