تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 542 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 542

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۵۲۸ " ہر پارٹی میں چند امید عامر ناکام ہوئے ہیں۔یہ کوئی انوکھی بات نہیں مگر احرار کے تین امیدوار ایسے ہیں جن کافیل ہو نا سخت دشکنی کا باعث ہے۔اول شیخ حسام الدین بی اے ہمقابلہ سیف الدین کچلولیل ہوئے۔ان کی بابت مولوی عطاء اللہ شاہ اپنی تقریروں میں کہتے تھے کہ امرتسر ہمارا مرکز ہے۔اس شہر میں ہمارا امیدوار اگر کامیاب نہ ہوا تو اہل قادیان ہمیں طعنہ دیتے ہوئے کہیں گے کہ احرار اپنے مرکز میں بھی ذلیل ہیں۔۔۔۔دو سرا امیدوار۔۔۔۔۔۔۔حاجی محمد خان جو تحصیل بٹالہ میں قادیان کے اطراف سے کھڑے ہوئے تھے وہ بھی فیل ہو گئے۔تیسرے امیدوار چودھری افضل حق جو جماعت احرار کے بڑے لیڈر ہیں جن کی دماغی قابلیت کو مخالفین بھی مانتے ہیں وہ بھی اپنے علاقہ ہوشیار پور میں فیل ہو گئے ہیں۔ان کے علاوہ اور بھی ناکام رہے ہوں گے۔ہمیں علم نہیں۔مگر ان امیدواروں کا فیل ہو جانا واقعی دلشکن ہے "۔اس الیکشن میں بعض ایسے کامیاب نمائندے بھی تھے جن کی کامیابی اگرچہ احرار کی مرہون منت نہ تھی۔مگر احرار نے ان کی اس موقعہ پر مدد کی تھی ایسے نمائندوں نے انتخاب جیتے ہی احرار سے قطع تعلق کر لیا۔چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب ہی کا بیان ہے کہ۔کم از کم بارہ ممبر ایسے تھے جو احرار کی مدد سے کامیاب ہوئے تھے چونکہ وہ درمیانے اور اعلیٰ طبقے سے متعلق تھے اس لئے امراء کی آواز میں ان کے لئے زیادہ کشش تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ احرار کے سب ممبر امراء کی کان نمک میں پڑ کر نمک ہو گئے اور احرار سے تعلق تو ڑ بیٹھے۔21 یہ کیفیت صرف اسمبلی کے انتخابات میں ہی نہیں ہوئی بلکہ میونسپل الیکشنوں میں بھی ایسا ہی ہوا jeer چنانچہ چودھری صاحب لکھتے ہیں۔یہ صورت حال صرف اسمبلی کے الیکشنوں میں ہی نہیں ہوئی بلکہ میونسپل انتخابات میں بھی یہی صورت در پیش ہوئی۔لودھیانہ جالندھر لائل پور میں غریب اور درمیانہ طبقہ کے لوگوں نے احرار کے نام پر فتح پائی لیکن جونہی کامیاب ہوئے اور سوسائٹی میں ایک درجہ حاصل کر لیا پھر کرسی نشین ہو کر خاک نشین احرار کو حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے " 202 کانگریس کے ہاتھوں بے آبروئی لیکن معاملہ نہیں تک ختم نہیں ہو جاتا۔اگر چہ احرار اب بھی کانگرس کے نفس ناطقہ تھے تاہم اب کانگرسی لیڈروں نے ان کو آلہ کار بنانے کے باوجود ان کو مسلمانوں کا نمائندہ تسلیم کرنے سے بالکل انکار کر دیا۔جناب اکرام قمر صاحب ایم اے نے اس حقیقت پر حسب ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی تھی۔کانگرس ایک طرف تو چودھری افضل حق مرحوم جیسے محب وطن کی بھی الگ تنظیم کے قیام کی