تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 538 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 538

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۵۲۴ مقدمہ لڑا گیا، کانفرنسیں ہو ئیں " امیر ملت منتخب کئے گئے۔غرض بہت جتن ہوتے رہے لیکن تحریک کا نتیجہ انتخاب پر ختم ہو ا مسجد نہ ملی۔البتہ احرار جو اس وقت تک مسلمانوں میں بے حد مقبول اور فعال گروہ سمجھے جاتے تھے اس تحریک میں حصہ نہ لے کر مسجد کے ملبے تلے آگئے اور اس بری طرح مسلمانوں کے عتاب کا شکار ہوئے کہ مسلم لیگ کے زمانہ شباب میں ان کا بڑھاپا خود بخود عود کر آیا “۔ار معلم کلام ہندوستان کی مسلم سیاست سے بے دخلی جیسا کہ ابتداء میں ذکر آچکا ہے کہ احرار سیاسی ہتھیاروں سے احمدیت کو مٹانے کا ادعا لے کر اٹھے تھے اور ان کی ۱۹۳۴ء کی ملک گیر شورش ان کے بقول ایک سیاسی جنگ تھی اور وہ اس سیاسی جنگ کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے اور کو نسلوں تک جانے کے لئے مسجد شہید گنج کے معاملہ میں الگ رہے۔لہذا مجلس احرار کی کتاب زندگی " کا ورق نا مکمل رہے گا اگر ہم بالآ خبر یہ نہ بتائیں کہ ۱۹۳۷ء میں احرار مسلمانان ہند کی سیاسی برادری سے کس طرح خارج ہوئے۔مسلم لیگ سے قطع تعلق احرار لیڈروں نے قضیہ مسجد شہید گنج کے بعد مسلم لیگ" کے دامن میں پناہ لے لی تھی۔اور انتخاب جیتنے اور بعض دوسرے سیاسی مصالح کی وجہ سے اس کے پارلیمنٹری بورڈ میں بھی شامل ہو گئے تھے۔مگر یہ شمولیت محض وقتی چیز تھی۔کیونکہ احرار مسلم لیگ میں اپنی ذاتی اغراض اور دلی آرزوؤں کی تکمیل نہ ہوتے دیکھ کر اس سے بہت جلد کنارہ کش ہو گئے۔اس واقعہ کی دلچسپ تفصیل ڈاکٹر عاشق حسین صاحب بٹالوی کے قلم سے لکھی جاتی ہے۔احراریوں تو مسلم لیگ کے پارلیمنٹری بورڈ میں شریک ہو گئے تھے لیکن کچھ ایسا محسوس ہو تا تھا کہ انہوں نے اس بورڈ سے جو توقعات قائم کر رکھی تھیں وہ بظاہر پوری نہیں ہوئیں۔انہیں سب سے بڑی غلط فہمی یہ تھی کہ جناح نے بمبئی کے تاجروں اور اودھ کے تعلقہ داروں سے کئی لاکھ روپے جمع کئے ہیں جو آئندہ الیکشن میں لیگی امیدواروں کے کام آئیں گے۔اس مغالطے میں مبتلا ہو کر چودھری افضل حق صاحب اور مولانا حبیب الرحمن وغیرہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اس فنڈ سے کم از کم ایک لاکھ روپیہ پنجاب کے حصے میں ضرور آئے گا اور یہ ایک لاکھ روپیہ کی رقم جلسے جلوسوں کے علاوہ اخباری پر اپا گنڈے پر خرچ ہو گی۔احرار کا یہ بھی خیال تھا کہ ملک برکت علی غلام رسول خان ، خلیفہ شجاع الدین وغیرہ مصروف آدمی ہیں۔انہیں ہائیکورٹ کی پریکٹس سے فرصت ہی کہاں ہے کہ وہ پنجاب کا دورہ کریں اور شہر ، شہر