تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 537
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۵۲۳ تھا کہ قیادت مولانا ظفر علی خاں کے ہاتھ میں تھی۔حالانکہ مولا نا صرف اس لئے آگے آئے تھے کہ مسلمان عوام کے لئے کوئی اور میدان میں نہیں آرہا تھا۔بہر حال اس تحریک سے کنارہ کشی و مخالفت نے اگر حصول مسجد کو نا ممکن بنایا اور سکھ مفاد کو فائدہ پہنچایا تو احرار پنجاب میں ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے۔اگر چہ تحریک پاکستان میں قائد اعظم اور مسلم لیگ کو گالیاں دے کر ہندوؤں اور سکھوں کی اشیر باد حاصل کرنے کی ایک اور کوشش کی گئی مگر سوائے رسوائی اور ذلت کے احرار کے ہاتھ کچھ نہ آیا اور کل نفس ذائقة الموت کی حسرت آفریں تصویر بن کر رہ گئے۔فاعتبروا یا اولی الابصار Bao اگر چه اخبارات و تصنیفات کے مندرجہ بالا حوالوں کے بعد مجلس احرار اور احراری لیڈر اس موضوع پر مزید کچھ لکھنا غیر ضروری معلوم ہوتا ہے مگر ہمارے نزدیک یہ بتانے کی ابھی ضرورت باقی ہے کہ خود احراری لیڈروں کے دل پر اس حادثہ جانکاہ سے کیا گزری اور اس کیفیت کا اظہار انہوں نے کن الفاظ میں کیا؟ ا۔اس تعلق میں "امیر شریعت احرار " عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کا بیان ملاحظہ ہو۔انہوں نے ۳۰/ مارچ ۱۹۳۸ء کو دہلی دروازہ کے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔”دو اڑھائی برس تک جو پھندا (مسجد شہید گنج) آپ نے ہمارے گلے میں ڈالا ہے۔نہ پھنداہی نکلتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے "۔ڈکٹیٹر احرار " چودھری افضل حق صاحب " تاریخ احرار " میں لکھتے ہیں۔et " طوفانی مخالفت اٹھانے کے لحاظ سے بے حد موثر غوغا آرائی نے بے شک ہمار ا ناطقہ بند کر دیا اور خدا کی زمین ہم پر تنگ کر دی گئی - 1 " حقیقت یہ ہے کہ ہر جماعت ہماری موت پر خوش تھی۔۔۔احرار سب میں گھرے کھڑے تھے۔انہیں چومکھی لڑائی لڑنی پڑ رہی تھی۔احرار لیڈروں کی برملا بے عزتی کی جاتی تھی۔ان پر قاتلانہ حملے شروع ہو گئے تھے۔صبر و سکون کی ہدایت کی جاتی تھی تا آنکہ پانی سر سے گزرنے لگا۔ہمارے مخالفوں نے شرافت کے سارے آئین کو بالائے طاق رکھ دیا۔شورش کاشمیری شہید گنج کے حادثہ کے رد عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔احرار ہر حال میں ایک سیاسی طاقت بن چکے تھے۔ایکا ایکی شہید گنج کے انہدام نے اس طاقت کو اس بری طرح برباد کیا کہ پھر وہ سنبھالے تو لیتے رہے لیکن سنبھل نہ سکے۔جس تیزی سے وہ ابھر سے تھے ای سرعت سے انہیں پسپا ہو نا پڑا۔ایک اور مقام پر تحریر کرتے ہیں۔