تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 539 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 539

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۲۵ دھوم دھامی جلسے منعقد کر کے دھواں دار تقریروں کا جادو بکھیریں۔ادھر احرار اس فن میں ید طولی رکھتے تھے اور سالہا سال سے ان کی زندگیاں انہی ہنگاموں کے لئے وقف ہو چکی تھیں۔اس لئے ان کا اندازہ تھا کہ جناح کے فنڈ میں سے پنجاب کو جو ایک لاکھ روپیہ ملے گا اس کا بیشتر حصہ ان ہی کی مرضی اور صوابدید سے خرچ ہو گا۔۔۔راقم الحروف کو اچھی طرح یاد ہے کہ مسٹر جناح نے اپنی کسی تقریر یا کسی بیان میں اشارہ بھی یہ نہیں کہا تھا کہ ان کے پاس لاکھوں کا سرمایہ موجود ہے۔لاکھوں کا کیا ذکر ان کے پاس تو چند ہزار کی رقم بھی نہ تھی۔جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ پارلیمینٹری بورڈ کے امیدواروں کو اپنی اپنی الیکشن کے مصارف خود برداشت کرنا ہوں گے۔بهر حال جب احرار کو پتہ چلا کہ پارلیمنٹری بورڈ کے پاس کوئی رقم نہیں ہے تو انہوں نے سوچا کہ اپنے اپنے الیکشن پر اپنی ہی جیب سے خرچ کرنا پڑا تو پھر وہ آئندہ انتخابات میں جناح کا توسل کیوں اختیار کریں۔۔۔۔۔۔ان خیالات سے متاثر ہو کر چودھری افضل حق، مولوی مظہر علی اظہر اور مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں زود یا بدیر مسلم لیگ سے علیحدہ ہونا پڑے گا۔اب سوال یہ تھا کہ وہ کس مسئلہ کو مابہ النزاع قرار دے کر ہم سے علیحدگی اختیار یہ مسلہ کریں گے۔۔۔۔۔۔اس واقعہ کے بعد سب کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا جس میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا کہ اگر پارلیمنٹری بورڈ نے کسی شخص کی درخواست منظور کر کے اسے آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کھڑا ہونے کی اجازت دے دی تو اس امیدوار کا فرض ہو گا کہ وہ پان سو روپے بورڈ کے فنڈ میں جمع کرائے۔چودھری افضل حق نے اس مسئلے کی مزید وضاحت طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ ” یہ پان سو روپے کس مقصد سے جمع کرائے جائیں گے ؟ غلام رسول خاں نے جواب دیا کہ بورڈ کو تمام امیدواروں کی الیکشن کے سلسلے میں مختلف اقسام کے اشتہارات اور پمفلٹ طبع کرانے ہوں گے۔پھر ان امیدواروں کی حمایت میں مسلم لیگ کے لیڈروں کو ان کے انتخابی حلقوں میں دورہ کرنا ہو گا۔آخران کاموں کے لئے روپیہ کہاں سے آئے گا ؟؟ چودھری افضل حق بڑے زندہ دل آدمی تھے۔کہنے لگے ”واہ حضرت پان سو روپے صرف اشتہارات اور پمفلٹ کے لئے۔الیکشن کا خرچ الگ۔میں تو پان سو میں الیکشن بھی لڑسکتا ہوں اور شادی بھی کر سکتا ہوں"۔میں اتفاق سے چودھری صاحب کے قریب ہی بیٹھا تھا۔میں نے عرض کیا ” نیکی اور پوچھ پوچھ۔خدا