تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 536 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 536

تاریخ احمدیت جلد ۷ ۵۲۲ انتخابات میں حصہ لینے کی جرات ہی نہ ہو سکی۔اس ایک لغزش کے بعد احرار بحیثیت جماعت ختم ہو گئے اور خلافت کمیٹی کی طرح جس کا یہ کسی زمانہ میں ایک جزو تھے بے جان ڈیچر بن کر رہ گئے "۔جناب ڈاکٹر عاشق حسین صاحب بٹالوی لکھتے ہیں۔"جب مسجد کے گرائے جانے پر صوبے کے طول و عرض میں اضطراب کی لہر اٹھی تو خیال تھا کہ احرار حسب معمول مسلمانوں کی رہنمائی کریں گے لیکن خلاف توقع انہوں نے بالکل چپ سادھ لی اور جنبش تک نہ کی۔بعد میں احرار لیڈروں نے اپنی اسی پر اسرار خاموشی کی مختلف تو جیبیں کرنے کی کوشش کی۔کبھی کہا گیا کہ میاں فضل حسین کے ایماء سے مسجد گرائی گئی ہے تاکہ احرار اس تحریک میں حصہ لیں تو انہیں گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا جائے۔کبھی کہا گیا کہ مسجد کا انہدام قادیان کے اشارے سے ہوا ہے تاکہ احرار کے قید و بند کا سامان آسانی سے مہیا ہو سکے۔غرض کہ تاویل و توجیہ کی مختلف صورتیں پیش کی جاتی رہیں جن پر عوام میں سے مشکل ہی سے کسی کو یقین آتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ مسجد شہید گنج کا انہدام مجلس احرار کے لئے پیام مرگ ثابت ہوا اور اس جماعت نے اگر چہ جولائی ۱۹۳۵ء کے بعد سے اب تک بیسیوں دفعہ سنبھلنے اور اپنا شیرازہ مجتمع کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن ان کوششوں میں ایک مرتبہ بھی تو اسے کامیابی نہیں ہوئی"۔سید نور احمد صاحب سانحہ شہید گنج کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔اس احساس کا رد عمل سب سے زیادہ احرار کے خلاف ہوا کیونکہ اسی جماعت سے لاہور کے عوام رہنمائی کی توقع کرتے تھے اور اس جماعت نے اس معاملہ میں یکسر پہلو تہی کی تھی۔اس پہلو تھمی کی وجہ کیا تھی؟ کیا احرار کے زعماء کو یہ خطرہ نظر آیا کہ اگر حکومت نے انہیں نظر بندیا گرفتار کر لیا تو آنے والے انتخاب کے سلسلہ میں ان کا سارا پروگرام درہم برہم ہو جائے گا؟ غالبا قیاس یہی تھا بہر حال جہاں تک مجلس احرار کا تعلق تھا اس ہنگامے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو مقبولیت اس جماعت نے چار پانچ سال کی محنت سے حاصل کی تھی وہ چند ہی دنوں میں ختم ہو گئی۔-۴- جناب ملک عنایت اللہ صاحب نسیم سوہدروی (علیگ) رقم طراز ہیں۔مجلس احرر عوام میں مقبول ہو رہی تھی۔مگر مسجد شہید گنج سے متعلق اس کا مشکوک کردار ہی اسے لے ڈوبا۔احرار نے اس تحریک سے صرف اس لئے علیحدگی اختیار کرلی تھی کہ پنجاب میں ایک آدھ وزارت مل جانے کا موہوم خواب نظر آ رہا تھا۔تحریک سے اعراض کا دوسرا سبب یہ