تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 535
تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ ۵۲۱ جاہل اور نا سمجھ عوام کی ہمدردیاں اپنے ساتھ کرلیں"۔-۹- رسالہ " قاسم العلوم" نے جو مدرسہ دیو بند کے زیر " رسالہ " قاسم العلوم دیوبند اہتمام شائع ہو تا تھا لکھا۔زیادہ افسوس اس جماعت پر ہے جس نے مسلمانوں کے اسلامی زندگی کے رہنما ہونے کے مدعی ہونے کے باوجود نہایت افسوس ناک طرز عمل اختیار کیا۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ جب ان مسلمانوں کی رگ غیرت شعائر اسلامی کی بے حرمتی پر بھی خون نہیں دیتی تو آخر وہ کس مرض کی دوا ہے۔اس کا نصب العین محض اقتدار پسندی ہے۔ہم مذہب کے نام پر تمام مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قضیہ مسجد شہید گنج کے شہداء کے خون کا احترام کرتے ہوئے اپنی بقاء اور اسلامی شعائر کی حفاظت کے لئے کوئی صحیح راہ عمل تجویز کریں"۔-1 ۱۹۳۵ء کے اخبارات میں سے بعض اقتباسات درج مجلس احرار اور مسلمان مورخ کرنے کے بعد اب ہم زمانہ حال کے بعض مسلم مورخین کی تصانیف سے بعض ضروری بیانات کا ذکر کرتے ہیں۔جناب مرزا محمد صاحب دہلوی مصنف " مسلمانان ہند کی حیات سیاسی " حادثہ شہید گنج اور احرار کی مخالفت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔احرار کا اس سارے ہنگامہ میں کہیں پتہ نہ تھا۔ہزاروں مسلمان جیل چلے گئے۔سینکڑوں زخمی ہوئے اور بیسیوں شہید ہو گئے۔لیکن احرار کا ان میں سے کسی میں بھی شمار نہ تھا۔وہ جماعت جو ایجی ٹیشن ہی کرتے رہنے کے لئے پیدا ہوئی تھی۔اس اہم اور نازک موقع پر کیوں پیچھے رہ گئی ؟ اسلامی مفاد کی حفاظت کا دعوئی اور اسلامی مفاد سے یہ غداری؟ مسلمانوں کے اس احتساب سے احرار چونکے۔انہیں مغالطہ تھا کہ ان کی اسلامی خدمات ایسی اہم ہیں کہ شاید مسلمان ان سے محاسبہ نہ کریں گے لیکن جب سب طرف سے ان پر لعنت ملامت کی بوچھاڑ شروع ہوئی تو انہیں اپنی صفائی کرنی پڑی لیکن ان کی صفائی عذر گناہ بد تر از گناہ قرار دی گئی۔اس لئے کہ انہوں نے مسجد شہید گنج کے اس سارے ہنگامے کو ایک فعل عبث قرار دیا اور جو مسلمان اس راہ میں شہید ہوئے تھے ان کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال کر ڈالے۔مسلمان اس شوریدہ سری کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ احرار سارے ہندوستان کے مسلمانوں کی نظروں سے گر گئے۔اور پنجاب میں جہاں یہ سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی تمنا میں سکھوں سے اتحاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے ان کی اس قدر بے وقعتی ہوئی کہ پھر انہیں دستور جدید کے