تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 526 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 526

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۵۱۲ ہے اور نہ ہی ہندو پریس کا پراپیگینڈا احراری لیڈروں کے کھوئے ہوئے اقتدار کو قائم کر سکتا ہے۔بلکہ برعکس اس کے ان کی حمایت احراریوں کے رہے سے اقتدار کو بھی خاک میں ملا رہی ہے"۔مجلس احرار اور مولوی ظفر علی خاں صاحب انی مولوی ظفر علی خان صاحب نے جو احرار کے بانیوں میں تھے احرار کی کارستانیوں سے تنگ آکر ان کے خلاف باقاعدہ مورچہ قائم کر لیا اور احرار کے خلاف ہر وہ حربہ استعمال کرنے لگے جو احراری جماعت احمدیہ کے خلاف استعمال کرتے آرہے تھے۔چنانچہ چوہدری افضل حق صاحب " تاریخ احرار " میں لکھتے ہیں۔”مولانا ظفر علی خاں اور ان کے رفقاء نے ہمارے خلاف غنڈہ گردی کی انتہاء کر دی چلنا پھرنا مشکل ہو گیا ہم پر تیزاب ڈالے گئے "۔۳۱۳ نیز لکھتے ہیں کہ۔"احرار کو جو مولانا ظفر علی خاں اور ان کے ساتھیوں سے اذیت پہنچی وہ ہر شخص کو معلوم ہے مولانا ظفر علی خاں اور اتحاد ملتی رفقاء کے ہاتھوں جو صدمے پہنچے اس سے کوئی بے خبر نہیں۔مسجد وزیر خاں میں سید عطاء اللہ شاہ کے قتل کی تدبیر ہوئی۔صاحبزادہ فیض الحسن خاں، محمود علی خاں اور مجھ پر تیزاب ڈلوایا گیا۔مولانا مظہر علی کے کپڑے پھاڑ ڈالے گئے۔مولانا ظفر علی خاں کے اخبار نے حملہ اور لفنگوں کو غازی کا خطاب دیا۔اور ہر موقعے پر غیر شریفانہ فعل کو سراہا۔ایک مولانا ظفر علی خاں اور ان کے رفقاء پر کیا موقوف ہے ہندوستان کی سب سے بڑی شخصیتیں ہماری بے عزتی کے در پے تھیں۔اسی طرح شورش صاحب کا شمیری کا بیان ہے کہ اس تاخت و تاراج میں مولانا کے قلم نے سب سے زیادہ مجلس احرار اور اس کے راہنماؤں کو زرج کیا۔شہید گنج کے انہدام سے لے کر پاکستان کے قیام تک ایسی جلی کٹی سنائیں کہ پناہ بخدا - مولانا کی شاعری میں اس جاں گد از المیہ کی کوئی توجیہ نہیں کی جس جماعت کے وہ کبھی راہنما تھے اس کو اپنے ہی ہاتھوں تباہ کیا۔یا کرنا چاہا۔مولانا نے جماعت احرار کو اس بے دردی سے کچلا کہ رفتہ رفتہ اسے کئی حادثوں کا شکار ہونا پڑا۔منصور شبلی کے ایک پھول سے چلا اٹھا تھا مولانا نے احرار پر جو پتھراؤ کیا وہ ایک تاریخی سانحہ ہے"۔احرار کی نیو ر کھتے ہوئے فرماتے ہیں۔اگر اک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوئے تو وہ اس عہد میں پنجاب کے احرار ہوئے