تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 525 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 525

تاریخ احمدیت جلد ۶ ۵۱۱ میں مجلس احرار کی مذمت کے ریزولیوشنز پاس کئے جارہے ہیں“۔اسی طرح روزنامہ "حق" لکھنو نے لکھا۔پنجاب میں ایک سرے سے دو سرے سرے تک ایک آگ لگ گئی۔وہ مسلمان جو ان کے چشم و ابرو کے اشارے پر اپنی عزیز ترین متاحائے حیات کو قربان کرنے میں کبھی بخل نہیں کرتے تھے علی الاعلان ان کے خلاف صف بستہ ہو گئے وہی مسجد خیر الدین کو جس کے منبر پر مولانا کو خاص عزت و احترام کے ساتھ جگہ دی جاتی تھی اور جہاں ان کی تقریروں کو سننے کے لئے ہزا رہا مسلمان رات و دن کے اوقات میں مجتمع ہو جایا کرتے تھے انہیں مسلمانوں نے ان کی وہ عزت و تو قیر کی کہ جو بیان سے باہر ہے ان کی جماعت کے ایک مقرر کو ٹانگ پکڑ کر منبر سے کھینچ لیا گیا۔وہیں شامیانے کی چومیں نکال کر اسے ان لوگوں کے سروں پر ڈھا دیا گیا۔ان کے دفتر پر پر جوش مسلمانوں نے یورش کی۔ان کا جھنڈا پھاڑ ڈالا اور ان کے لئے " مردہ باد" کے نعرے لگائے اخبار " نوجوان افغان " ( ہری پورہ ہزارہ) نے احرار کی ناگفتہ بہ حالت" کے عنوان سے نے ا/ اگست ۱۹۳۵ء کو یہ شذرہ لکھا۔"مسجد شہید گنج کے قضیہ نا مرضیہ نے جہاں دیگر بہت سے راز ہائے سربستہ کو طشت از بام کر دیا ہے وہاں احراریوں کی منظم اور مقتدر جماعت کے اقتدار پر بھی کاری ضرب لگائی ہے وہ جماعت جو شب و روز مسلمانوں کی تنظیم و تبلیغ کے غم میں گھلی جاتی تھی اور قادیانیوں کی تکفیر اور سرکار پرستی کے نشر و اشاعت میں دن رات ایک کر دیا ہوا تھا آج ایسی قعر مذلت میں گر رہی ہے کہ اس کے نام سے کسی کو منسوب کرنا ذلت اور تحقیر کے مترادف ہے۔وہ راہ نما جن کا ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں احترام کیا جاتا تھا۔جلسوں اور جلوسوں کی شرکت کے لئے بڑے اہتمام کئے جاتے تھے آج مارے مارے پھرتے ہیں کوئی پرسان حال نہیں۔جگہ جگہ پھبتیاں اڑائی جاتی ہیں۔اور آوازے کسے جاتے ہیں بلکہ مجالس میں ان سے بعض ناشدنی حرکات کو بھی جائز تصور کیا جاتا ہے۔احرار کے اقتدار کا زمانہ گزر گیا اور جماعت "خلافت" کی طرح ان کی زندگی کی گھڑیاں بھی ختم ہو گئیں۔کو نسلوں کی رکنیت اور وزارتوں کے خواب دیکھنے والے مسلمانوں کی نظروں میں اس قدر گر چکے ہیں کہ امیدواری کا نام تک لینا ان کے لئے مشکل ہو گیا ہے اگر چہ ہندو اور سکھ پریس کی امداد انہیں حاصل ہو چکی ہے اور ان کے ہر فعل کو نہایت مستحسن قرار دیا جا رہا ہے۔لیکن ہر ایک شخص جانتا ہے کہ ہندو پریس کی نمائندگی کیا معنے رکھتی ہے