تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 512 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 512

تاریخ ا جنده ۴۹۸ سینہ سپر رہے گا۔اس لئے میں مخالفوں سے کہوں گا۔وہ جتنی طاقتیں ہمارے خلاف جمع کرنا چاہتے ہیں ان سب کو جمع کرلیں اور متحدہ طور پر ہمارا مقابلہ کریں ہم خدا کے فضل سے ان سے ڈرتے نہیں بلکہ خوش ہیں کہ اس طرح خدا کی مخفی طاقتیں ظاہر ہوں گی اور لوگوں کو پتہ لگے گا کہ ہمارا سلسلہ انسانوں کا قائم کردہ نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودہ ہے میں یقین رکھتا ہوں کہ جس وقت یہ فتنہ دور ہو گا ہمارے مخالف اور اندرونی منافق و بازدہ چوہوں کی طرح مر جائیں گے اور دشمن کے ہاتھوں کو تو ڑ کر خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو نئی طاقت نئی عظمت اور نئی شہرت عطا کرے گا اور وہ شرفا ہندوؤں سکھوں اور عیسائیوں میں سے جو نا واجب طور پر ہم پر حملہ آور نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ ان کی اس نیکی کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ اس کا انعام یا تو انہیں ہدایت کی صورت میں دے دے گا۔اور یاد یوی ترقیات کے ذریعہ ان کی اس نیکی کا انہیں پھل دے گا "۔Ra حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان ۱۹۳۵ء کے وسط میں حضرت چوہدری محمد ظفر صاحب کی ملاقات لارڈ ولنگڈن سے اللہ خان صاحب نے وائسرائے ہند لارڈ " ولنگڈن سے ملاقات کی جس کا تذکرہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے درج ذیل الفاظ میں فرمایا۔مجھے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی یہ بات بہت ہی پیاری معلوم ہوتی ہے جو انہوں نے لارڈ د لنگڈن سے ۱۹۳۵ء کی گرمیوں میں کمی جبکہ وہ ہندوستان کے وائسرائے تھے انہوں نے کہا۔سمر ایمرسن اپنے آپ کو بہت دور اندیش خیال کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ احمد یہ جماعت بوجہ اپنی تنظیم کے اور ایک امام کے تابع ہونے کے برطانوی حکومت کے لئے ایک ممکن خطرہ ہے اور اس خیال سے وہ احمد یہ جماعت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ تاریخ سے قطعا نا واقف معلوم ہوتے ہیں یا کم سے کم انہوں نے تاریخ کا صحیح طور پر مطالعہ نہیں کیا کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ جب کبھی کسی شاہنشاہیت" نے کسی مذہب سے ٹکر لگائی ہے ہمیشہ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ ایمپائر تباہ ہو گئی ہے۔مگر مذہب تباہ نہیں ہوا اور کچی بات یہی ہے کہ ایمپائر ز جب مذاہب سے ٹکراتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔مگر خدا تعالیٰ کا قائم کیا ہوا کوئی مذہب آج تک دنیا سے نہیں مثانہ مٹ سکتا ہے " - 1 ۱۶ جون ۱۹۳۵ء B کا واقعہ ہے کہ جماعت احمدیہ کی عید گاہ میں بے جامد اخلت جماعت احمدیہ قادیان کی عید گاہ میں صیغه جائداد صدر انجمن احمدیہ کے زیر انتظام مزدور گڑھے پر کرنے کا کام کر رہے تھے کہ بہت سے احراری وہاں جمع ہو گئے اور انہوں نے مزدوروں سے کرائیں اور ٹوکریاں چھین لیں اور بعض