تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 511
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۴۹۷ آپس کے تفرقہ سے بچنا چاہئے۔اسی طرح اعلیٰ عہدہ داروں پر بھی سکوت طاری تھا۔لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ طوفان مخالفت بڑھتا چلا جاتا ہے تو انہوں نے خیال کیا کہ ہم پیچھے کیوں رہیں۔اس خیال کا آنا تھا کہ پہلے سر مرزا ظفر علی صاحب سابق حج ہائیکورٹ لاہور نے ایک بیان شائع کر دیا۔کہ اگر حکومت مسلمانوں کے زائل شدہ اعتماد کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے تو مرزائیوں کو جداگانہ اقلیت قرار دینا چاہئے۔ان کے بعد ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب بھی میدان میں نکل آئے اور آخر میں علامہ عبداللہ یوسف علی صاحب (پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور نے) جو اس کشمکش سے ہمیشہ مجتنب رہا کرتے تھے جماعت کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کر دیا اس طرح احرار کی مخالفت وسط ۱۹۳۵ء میں نقطہ عروج تک پہنچ گئی۔اور ملک کی تمام طاقتیں احمدیت کو کچلنے میں پوری طرح سرگرم عمل ہو گئیں اور احمدیوں کا ملک میں زندہ رہنا بالکل ناممکن نظر آنے لگا۔اس خطر ناک فضا میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ۲۴ / مئی ۱۹۳۵ء کو مسجد اقصیٰ قادیان کے منبر پر ایک ولولہ انگیز خطبہ میں دشمنان احمدیت کی ناکامی کی واضح ترین لفظوں میں خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔میں تمام مخالفوں اور ان کے ہمنواؤں کو حضرت نوح علیہ السلام کے الفاظ میں ہی کہتا ہوں تم سارے مل جاؤ اور اپنی تمام تدابیر احمدیت کو کچلنے کے لئے اختیار کرو۔قادیان کے ان منافقوں کو بھی اپنے ساتھ ملالو جو کھلم کھلا تمہاری تائید کر رہے ہیں۔اور ان منافقوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لوجو نمازیں پڑھتے روزے رکھتے اور جماعت کے دیگر کاموں میں حصہ لیتے ہیں مگر اپنی پرائیویٹ مجلسوں میں سلسلہ کے نظام پر ہنسی اڑاتے اور اس کی تحقیر و تذلیل کرتے ہیں تم سارے مل جاؤ اور دن اور رات منصوبے کرو اور اپنے منصوبوں کو کمال تک پہنچا دو اور اپنی ساری طاقتیں جمع کر کے احمدیت کو مٹانے کے لئے مل جاؤ پھر بھی یاد رکھو تم سب کے سب ذلیل و رسوا ہو کر مٹی میں مل جاؤ گے تباہ و برباد ہو جاؤ گے اور خدا مجھے اور میری جماعت کو فتح دے گا کیونکہ خدا نے جس راستہ پر مجھے کھڑا کیا ہے وہ فتح کا راستہ ہے جو تعلیم مجھے دی ہے وہ کامیابی تک پہنچانے والی ہے اور جن ذرائع کے اختیار کرنے کی اس نے مجھے توفیق دی ہے وہ کامیاب و با مراد کرنے والے ہیں اس کے مقابلہ میں زمین ہمارے دشمنوں کے پاؤں سے نکل رہی ہے اور میں ان کی شکست کو ان کے قریب آتے دیکھ رہا ہوں۔وہ جتنے زیادہ منصوبے کرتے اور اپنی کامیابی کے نعرے لگاتے ہیں اتنی ہی نمایاں مجھے ان کی موت دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔۔۔آج خدا یہ دکھانا چاہتا ہے کہ انسانی طاقتیں اس کے ارادہ کے سامنے پیچ اور ذلیل ہیں آج خدا اپنی طاقت دکھانا چاہتا ہے اور اپنے جلال کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے میں تمام دشمنوں کے سامنے نڈر ہو کر کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا۔اور ہر مخلص احمدی سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں کہ وہ دشمن کے سامنے