تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 34 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 34

تاریخ احمد بیت - جلد ۶ کو نسل میں بلا مقابلہ منتخب ہو جائیں۔کیا پنجاب میں ایک فقط چوہدری ظفر اللہ خاں ہی بلا مقابلہ منتخب ہونے کے لئے رہ گئے ہیں آخر اسلامیان پنجاب اپنے آزمودہ کار خدام کو کیوں نظر انداز کئے بیٹھے ہیں۔کیا ملک برکت علی، خواجہ عبد الرحمن نمازی، مولانا مظہر علی اظہر کا کونسل کی نشستوں پر حق نہیں ہے ؟ ہم تو چاہتے ہیں کہ چوہدری ظفر اللہ خان کے حلقہ انتخاب سے کوئی نائی یا مراثی اٹھے اور انہیں میدان مقابلہ میں ایسی شکست دے کہ قادیانی جیتے جی یا د رکھیں اور از بسکہ اسلام میں کامل مسلمات ہے اس لئے ہر کلمہ گو مسلمان پر فرض ہو گا کہ وہ چوہدری ظفر اللہ خاں کے حریف کی پوری پوری اعانت کرے"۔اس کے بعد اپنی ۷ / اکتوبر ۱۹۳۲ء کی اشاعت میں لکھا۔چوہدری ظفر اللہ خاں نے کونسل میں بلا مقابلہ انتخاب کی جو توقعات قائم کر رکھی تھیں ان پر "زمیندار" کے پروپیگنڈے کا بے حد اثر ہوا ہے۔معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خاں نے کو نسل کی رکنیت کے لئے کھڑے ہونے کے فیصلہ کو سر دست معرض التوا میں ڈال دیا ہے۔معتبر حلقوں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جماعت احرار کا کوئی رکن چوہدری ظفر اللہ خاں کے حلقہ انتخاب سے کھڑا ہو گا"۔"زمیندار" کے اس پراپیگنڈا کے علاوہ احراری ذہنیت رکھنے ولے اصحاب کی طرف سے ہر رنگ میں کوشش کی گئی کہ اول تو جناب چوہدری صاحب اپنے حلقہ سے منتخب ہی نہ ہو سکیں یا کم از کم بلا مقابلہ منتخب نہ ہو سکیں۔کسی نہ کسی کو ضرور کھڑا کر دیا جائے لیکن حلقہ سیالکوٹ میں کسی اور شخص کو مقابلہ میں کھڑے ہونے کی جرات نہ ہو سکی اور آپ خدا کے فضل و رحم سے بلا مقابلہ منتخب ہو گئے جس پر اخبار "سیاست ۲۶ / اکتوبر ۱۹۳۲ ء نے بعنوان ” چوہدری ظفر اللہ خان کی ہر دلعزیزی وغیر جنبہ داری" کے عنوان سے لکھا۔" سب نے بیک زبان آپ کی حسن کارگزاری کمال سیاسی قابلیت اور غیر جنبہ داری کا اعتراف کیا اور آپ کو اپنی نمائندگی کے لئے بہترین شخص قرار دیا۔واقعی چوہدری صاحب موصوف اس قابل ہیں کہ ان پر اس درجہ اعتماد و اعتبار کیا جائے۔آپ نے کو نسل میں گراں بہا کام کرنے کے علاوہ اہم ترین مواقع پر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا کما حقہ حق ادا کیا۔لہذا ہم بہ طمانیت تمام جناب چوہدری صاحب کو آپ کی اس شاندار کامیابی پر کہ علی الرغم حسود کوئی شخص آپ کے مقابلہ کے لئے میدان عمل میں نہیں اترا اور آپ کو صحیح معنی میں رائے دہندگان نے منتخب کیا۔مبارکباد دیتے ہیں"۔