تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 33
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۳۳ ہر طرح اہل پاتے ہیں ہندوؤں کے انتقامی جذبات میں تلاطم برپا کر دیا اور وہ خم ٹھونک کر سامنے آگئے۔اخبار سیاست کا اہم نوٹ ہندو اخبار ٹر یون“ نے (جس نے ایک بار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی وفات کی مفتریا نہ خبر شائع کی تھی) اس موقعہ پر " ہندو قوم کے اندرونی خیالات و افکار کی عکاسی کرتے ہوئے چوہدری صاحب کے خلاف بہت زہر اگلا اور ان کی مسلمہ قابلیت و لیاقت پر بھی خوب دل کھول کر حملے کئے۔جس کے جواب میں شمالی ہند کے مشهور مسلمان اخبار سیاست " (۲۵ / مئی ۱۹۳۲ء) نے مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور ہندو: اس پر کہ جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیر سٹرایٹ لاء ایم ایل سی نے آنریبل میاں سر فضل حسین کی جگہ رکنیت تعلیمات کا عہدہ منظور فرمالیا ہے ہندو سیاسی حلقے بے انتہاء مضطرب ہیں اور تو اور ٹرمیون " ایسے اخبار نے فرقہ واریت میں ڈوبا ہوا شذرہ حوالہ قرطاس کیا اور محض اس جرم پر کہ چوہدری صاحب مسلم مطالبات کے زبر دست حامی اور موید ہیں ان کی لیاقت و قابلیت سے بھی انکار کیا بلکہ یہاں تک لکھ مارا کہ بحیثیت قانونی پیشہ بھی آپ کوئے سبقت نہیں لے جاسکتے غضب کی بات ہے کہ تعصب اس درجہ انسان کو اندھا کر دے کہ محض کسی شخص کے کانگریس سے اختلاف رکھنے کے باعث اسے ہر جلیل القدر عمدہ کا نااہل قرار دیا جائے۔سیدھی بات ان میں سے کوئی نہیں کہتا اور انٹ کی سنٹ اڑاتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ فرقہ واریت حصول عمدہ کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہو سکتی اس لئے ان کے مطالبہ کا صاف مقصد یہ ہے کہ ایسے مسلمان کو کیوں رکنیت کا جلیل القدر عہدہ دے دیا جاتا ہے جو مسلمانوں کی غالب ترین اکثریت کا ہم خیال ہو کیونکہ اسے وہ اپنے ڈھب پر نہ لگا سکیں گے اور ان کا بہت بڑا مقصد فوت ہو جائے گا۔یہ چیخ پکار اسی لئے ہے ورنہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہر طرح اس عہدہ کے اہل ہیں ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں "۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا چوہدری صاحب وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو پنجاب کونسل میں بلا مقابلہ انتخاب کونسل میں قائم مقام ممبر ہو جانے کی وجہ سے پنجاب کو نسل کی نشست سے دستبردار ہو گئے تھے اس تقریر کے اختتام پر آپ سابقہ نشست حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ہندوؤں کی خواہشات کے عین مطابق اخبار "زمیندار" اور "حریت" نے محض اس بناء پر کہ آپ احمدی ہیں آپ کی مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ اخبار "زمیندار" (۴/اکتوبر ۱۹۳۲ء) نے لکھا۔"ہم مسلمانوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کی غیرت برداشت کر سکتی ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں