تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 35 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 35

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۳۵ پونڈری (ضلع کرنال) کے مسلمانوں کی امداد ضلع کرنال کے ایک قصبہ پونڈری پورہ کے مسلمان ۲ جون ۱۹۳۲ء کو مدیح تعمیر کر رہے تھے کہ ہندوؤں کے ایک بہت بڑے مسلح مجمع نے تعمیر نذیحج کی پاداش میں نہتے مسلمانوں حملہ کر کے تین مسلمانوں کو شہید اور تیس کے قریب کو سخت زخمی کر دیا۔جس پر حضرت خلیفتہ مسیح الثانی نے ڈلہوزی سے بذریعہ تار حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظرد عوہ و تبلیغ کو مسلمانوں کی امداد ادر اصل واقعات کی تحقیق کے لئے بھجوایا۔جنہوں نے علاقہ کا دورہ کیا اور صحیح حالات معلوم کر کے افسران بالا کو توجہ دلائی نیز اخبارات کے ذریعہ سے پلک کو علاقہ کے مظلوم مسلمانوں کی مظلومیت کے صحیح حالات سے آگاہ کیا۔چونکہ ہندو اخبارات نے اصل واقعات پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ پروپیگینڈا شروع کر دیا کہ مسلمانوں پر ہندوؤں نے قاتلانہ حملہ نہیں کیا بلکہ مسلمان آپس میں کٹ مرے ہیں اس لئے اخبار "الفضل " نے ۱۴ / جون ۱۹۳۲ء کو ایک نوٹ لکھا جس میں اسے ہندوؤں کی گہری سازش قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ پونڈری کے ستم رسیدہ اور تباہ حال مسلمانوں کی داد رسی کا کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کریں۔اس نوٹ کی اشاعت کے دو تین ہفتہ بعد یہ خبر ملی کہ اس قصبہ میں پولیس کی تعزیری چوکی قائم کی جانے والی ہے اور اس کا خرچ وہاں کے اور مضافات کے باشندوں پر ڈالا جائے گا۔چونکہ خطرہ تھا کہ یہ ٹیکس بے گناہ اور مظلوم مسلمانوں پر بھی عائد کر دیا جائے۔اس لئے قصبہ کے مسلمانوں نے ڈپٹی کمشنر کرنال کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ ہندوؤں کی قانون شکنی کے باعث تعزیری چوکی کا ٹیکس مسلم آبادی پر نہیں پڑنا چاہئے۔| A+¦ جب وہاں ہندوؤں کے خلاف مقدمہ چلا۔تو وہاں کے مسلمانوں نے حضور کی خدمت میں درخواست کی کہ ان کی قانونی مدد کی جائے چنانچہ حضور کے ارشاد کے ماتحت جناب مرزا عبد الحق صاحب پلیڈ ر گورداسپور وہاں بھجوائے گئے۔جنہوں نے تقریباً ایک ماہ رہ کر نہایت محنت سے مقدمہ کی پیروی کی۔جس کے نتیجہ میں ۲۴ کے قریب ملزموں کو سخت سزائیں ہوئیں۔مسلمانان حصار نے مرزا عبد الحق صاحب احمدی وکیل گورداسپور کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔جنہوں نے بلا فیس عدالت ابتد براہ سردی کی تھی۔AT