تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 503
تاریخ احمدیت - جلد ؟ ۴۸۹ اور ہم کمزور ہیں لیکن ہمارا بھروسہ خدا تعالیٰ پر ہے ہمیں ذلیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر ہم خدا تعالی کے فضل سے ذلیل نہیں ہوں گے ذلیل وہ غدار حکام ہوں گے جو ملک معظم سے تنخواہ پاکر ان کی نمک حرامی کر رہے ہیں یا احرار ہوں گے جو حریت کا دعوی کرتے ہوئے اس وقت ظالموں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن رہے ہیں۔تم صبر سے کام لو تو اللہ تعالی بالا افسروں کے دل پر حقیقت کھول دے گا اور انشاء اللہ وہ اپنی ذمہ داری محسوس کرنے لگیں گے۔تھوڑے دن میں ہی خدا تعالیٰ اپنا ہاتھ دکھائے گا اور دشمنوں کو ان کے ارادوں میں نا کام کر دے گا اور ہماری مظلومیت اور برائت کو ظاہر کر دے گا۔پس صبر سے کام لو اور گالیوں اور مار پیٹ کا بدلہ زبان اور ہاتھ سے نہ لو بلکہ خدا تعالیٰ کے آگے فریاد کرو کہ اس وقت اس کے سوا کوئی تمہاری آواز سننے کو تیار نہیں "۔احمدیوں کا منتظم بائیکاٹ حکومت کی متشدانہ پالیسی جہاں ۱۹۳۵ء کے شروع سے قادیان کے بارے میں سخت ہو گئی وہاں ساتھ ہی بیرونی احمدی جماعتوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جانے لگا۔چنانچہ ۱۹۳۵ء کے آغاز میں ہی بیرونی احمدیوں کا ہر جگہ منتظم صورت میں بائیکاٹ کیا جانے لگا۔نتے احمدیوں کو گرفتار کرانے کی کوشش بائیکاٹ کے علاوہ نتھے احمدیوں کو گرفتار کرائے جانے کی جدوجہد بھی شروع کر دی بے ہودہ افواہیں احرار نے عوام میں جذبات نفرت و حقارت پیدا کرنے کے لئے جھوٹی افواہیں بھی خوب پھیلائیں۔مثلاً شروع فروری میں مضافات قادیان میں یہ افواہ مشہور کی کہ اچانک ایک دن ڈپٹی کمشنر صاحب قادیان پہنچے اور انہوں نے قادیان کے اردگرد فوج اور رسالہ کے پہرے مقرر کر کے خلیفہ ثانی کی ضمانت لی۔ا سٹھیالی ضلع گورداسپور میں یہ خبر مشہور کی گئی کہ (نعوذ باللہ ) چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے احمدیت ترک کر دی ہے۔وجہ یہ کہ مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے وائسرائے سے جاکر کہا کہ میں نے آپ سے کہا تھا کہ مسلمان وزیر مقرر کریں۔آپ نے مرزائی مقرر کر دیا ہے یہ معلوم ہونے پر وائسرائے صاحب بہادر نے چودھری صاحب سے کہا یا تو احمدیت چھوڑ دو یا وزارت سے علیحدہ ہو جاؤ۔اس پر چوہدری صاحب نے احمدیت چھوڑ کر وزیر بننا منظور کر لیا۔ارتداد کی جھوٹی خبریں اخبار "زمیندار" اور "احسان " کی طرف سے ان دنوں شیخ بیعت کی فرضی اور خود ساختہ فہرستوں کی باقاعدہ اشاعت کی جاتی تھی۔اور