تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 504
تاریخ احمدیت۔جلد ۷ اسے " قصر مرزائیت میں زلزلہ" سے تعبیر کیا جاتا تھا۔12 جماعت احمدیہ کی تباہی کی پیشگوئیاں اب احراری لیڈروں کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے اس لئے ۱۹۳۵ء کے شروع میں وہ خاص طور پر یہ پیشگوئیاں کرنے لگے کہ احمدیت عنقریب مٹ جائے گی اور کوئی احمدی دیکھنے کو بھی نہیں ملے گا۔صاحبزاده سید فیض الحسن صاحب سجادہ نشین آلو مہار نے لدھیانہ میں کہا۔میں اس جگہ کھڑے ہو کر یہ پیشگوئی کرتا ہوں کہ منارہ قادیانی اس کے بانی اور اس کی جماعت کا نام و نشان تک مٹ جائے گا اور یہ سب کچھ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ایک سرکردہ احراری لیڈر نے کہا۔۳۴۴ "ہم نے ایسا انتظام سوچا ہے اور اسے جلد جاری کرنے والے ہیں کہ ہم احمدیوں کو سیاسی طور پر اس قدر تنگ کر دیں گے کہ وہ پانچ سال کے اندریا تو احمدیت کو چھوڑ دیں گے یا مٹ جائیں گے بڑے بڑے آدمی اس کام میں ہمارے ساتھ ہیں "۔22 امیر شریعت احرار سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے سیالکوٹ میں تقریر کی کہ۔" مرزائیت کے مقابلہ کے لئے بہت سے لوگ اٹھے۔لیکن خدا کو یہی منظور تھا کہ یہ میرے ہاتھوں سے تباہ ہو"۔RA مصائب جھیلنے والی بعض جماعتوں اور افراد کا خصوصی تذکرہ ۱۹۳۵ء میں یوں تو پورے ملک کے احمدی مصائب و آلام سے دو چار تھے مگر بعض مقامات اور افراد پر فتنہ کا حملہ نہایت شدید رنگ میں ہوا۔اس سلسلہ میں نہایت اختصار سے بعض واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے۔وزیر آباد میں بابو محمد ابراہیم صاحب مسجد سے دھکے دے کر باہر نکال دیئے گئے۔نیز ایک دوسرے احمدی شمیم حسن صاحب بر سرباز ار پیئے گئے۔۴- -1 ڈیرہ دون میں ایک احمدی لڑکی کی نعش دفن کرنے میں سخت مزاحمت کی گئی۔بھدرواہ میں بعض احمدی علماء پر قاتلانہ حملہ ہوا۔مسانیاں (ضلع گورداسپور) کی ایک احمدی خاتون لاٹھیوں سے زدو کوب کی گئی اسی طرح دیال گڑھ اور موضع نت میں احمدیوں کے لئے جینا دو بھر کر دیا گیا۔L ۳۵۰ حیدر آباد سندھ میں ایک احمدی مرزا امیر احمد صاحب پر ایک مشتعل ہجوم نے حملہ کر دیا۔لاہور کے ایک احمدی میاں قادر بخش صاحب سنہری مسجد میں پیٹے گئے بدن کے کپڑے پھاڑ