تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 502
تاریخ احمدیت جلد ۷ ۴۸۸ پوسٹر لکھنے والے شخص کا نام پولیس کو دیا مگر اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی۔دفعہ ۱۴۴ کی توسیع کے لئے ناجائز کوشش ۲۹/۳۰ مارچ ۱۹۳۵ء کی درمیانی رات کو ساڑھے 9 بجے کے قریب جبکہ ۱۴۴ کی معیاد ختم ہو رہی تھی۔قادیان کے ایک احراری نے محمد اسمعیل صاحب صدیقی کی دکان پر آکر پہلے گالی گلوچ کی اور پھر ہاتھا پائی پر اتر آیا اور بے تحاشہ شور مچانا شروع کر دیا۔اگر چہ پولیس کی چوکی بالکل قریب ہی تھی مگر پولیس کا کوئی آدمی اس موقعہ پر نہ پہنچا۔محمد اسمعیل صاحب شیخ محمود احمد صاحب عرفانی (صدر نیشنل لیگ (قادیان) کے ساتھ واقعہ کی اطلاع دینے چلے گئے۔واپسی پر جب وہ اپنی دکان کی طرف آرہے تھے تو احراری انہیں دھکے دے کر ایک مکان کے اندر لے گئے اور دروازہ بند کرکے مارنا شروع کر دیا۔اس پر بعض احمد ی پولیس چوکی میں پہنچے اور بتایا کہ ان کی جان خطرہ میں ہے لیکن پولیس ٹس سے مس نہ ہوئی۔نہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف جس بے جا کے اس واقعہ پر حضرت خلیفتہ المسیح صبر کی درد مندانہ اپیل الثانی نے جماعت احمدیہ قادیان کو صبر کی تلقین کی اور مندرجہ ذیل اعلان فرمایا۔تمام محلوں کے پریذیڈنٹوں کو اطلاع کی جاتی ہے کہ رات کو میاں محمد اسمعیل صاحب صدیقی سے جو لڑائی ہوئی ہے اور اس کے بعد انہیں ایک گھر میں بند کر کے جو بعض احرار نے مارا ہے اس (قسم) کے واقعات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کو شش دفعہ ۱۴۴ کو لمبا کرنے کے لئے کی جاتی ہے احباب کو معلوم ہے کہ اس وقت حکومت کا ایک حصہ ہماری دشمنی پر تلا ہوا ہے اور ہمیں بد نام کرنا چاہتا ہے۔اس لئے ایسے موقعہ پر بہت احتیاط کی ضرورت ہے جب نگران ہی دشمنی پر تلے ہوئے ہوں تو خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ادنی تریر سے یہ امر معلوم ہو سکتا ہے کہ تین دفعہ ۱۴۴ کے خاتمے کے وقت اس قسم کی لڑائی کرانے کی کوشش بے وجہ نہیں ہو سکتی اور پھر ان لوگوں کی اس میں شمولیت جن کی دکانوں پر پولیس کے بہت سے سپاہی بیٹھتے ہیں اور بھی شبہ پیدا کرنے والی ہے۔ان حالات میں میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں اور مار کھا کر بھی خاموش رہیں گالیاں سنیں اور پروانہ کریں۔بلکہ احرار اور ان کی پشت بننے والے حکام کی ان کوششوں کا جو وہ سلسلہ کو بد نام کرنے کے لئے کر رہے ہیں میر اور تحمل کے ذریعہ سے ناکام کر دیں۔بے شک یہ کام مشکل ہے لیکن مومن سے امید کی جاتی ہے کہ وہ مشکل سے مشکل امتحان میں کامیاب ہو۔عزیز و ا یہ وقت ابتلاء کا ہے حکومت کا ایک حصہ ہمارے دشمنوں سے مل کر ہمارے خلاف کھڑا ہے