تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 500
تاریخ احمدیت چاند ۴۸۶ آل انڈیا نیشنل لیگ کا مرکزی دفتر لاہور میں قائم کیا گیا اور محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ اس کے صدر مقرر ہوئے۔نیشنل لیگ نے جماعت کو ( محدود رنگ) میں ایک سیاسی پلیٹ فارم دیا جس سے سالہا سال تک جماعت کی بعض اہم قومی اور سیاسی ضروریات پوری ہوتی رہیں۔لیگ نے جلسوں جلوسوں اور دوسرے پر امن اور آئینی ذرائع سے ظلم و فساد کے خلاف موثر صدائے احتجاج بلند کی۔اس انجمن کے ساتھ ایک ذیلی تنظیم کو ر کے نام سے بھی قائم کی گئی۔جس کے ناظم جیش اور سالار اعظم چوہدری اسد اللہ خان صاحب بار ایٹ لاء تجویز کئے گئے کور کی خدمات بھی ناقابل فراموش نہیں اس کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے احمدی نوجوانوں میں تنظیم کی روح پھونک دی اور وہ جماعتی اور قومی معاملات میں پہلے سے زیادہ دلچسپی لینے لگے۔تفصیل اگلی جلد میں آرہی ہے۔قادیان میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ مسٹر ہے۔ایم سری نگیش (مرہٹہ) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور نے احرار نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے قادیان اور اس کے ملحقہ دیہات میں ۳۰/ جنوری ۱۹۳۵ء سے دوماہ کے لئے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی۔جس کی رو سے جلسوں کا انعقاد نیز پانچ سے زائد اشخاص کے جمع ہونے کی ممانعت کر دی گئی۔اور اس طرح احمدیوں سے اپنے مرکز میں بھی دو ماہ کے لئے آزادی تقریر کا حق سلب کر لیا گیا۔مگر اس کے بالمقابل دوسروں کو کھلی چھٹی دے دی گئی کہ وہ جس طرح چاہیں فحش کلامی اور بد زبانی کا مظاہرہ کریں۔دفعہ ۱۴۴ کے ظالمانہ نفاذ پر شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور a نے مولوی قمر الدین صاحب فاضل (سیکرٹری نیشنل لیگ (قادیان) کی طرف سے بعد الت سشن جج صاحب گورداسپور ایک مرافعه بدیں مضمون پیش کیا کہ یہ حکم خلاف قانون اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات سے باہر ہے اس لئے آپ ہائیکورٹ سے سفارش کریں کہ وہ اس حکم کو منسوخ کر دے۔اس مرافعہ میں شیخ بشیر احمد صاحب مرزا عبد الحق صاحب اور چوہدری یوسف خان صاحب وکیل گورداسپور پیش ہوتے رہے۔PA چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے اور بعض دوسرے اصحاب کی شہادتیں ہو ئیں۔BA شیخ بشیر احمد صاحب نے ۲۱ / فروری ۱۹۳۵ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی عدالت میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے خلاف مدلل اور فاضلانہ بحث کی۔مگر شن جج نے یہ درخواست منظور نہیں کی اس کے بعد اس حکم کے خلاف ہائیکورٹ میں نظر ثانی کی درخواست کی گئی۔اور درخواست کنندہ کی طرف سے چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بارایٹ لاء نے بحث کی۔آخر ۲/ اپریل ۱۹۳۵ء کو ہائیکورٹ نے قادیان میں دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کو نادرست قرار دے دیا۔اور فیصلہ دیا کہ قادیان کی ریونیو اسٹیٹ اور ملحقہ ریونیو اسٹیٹوں کے متعلق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا آرڈر مہم اور ناقابل عمل تھا۔2