تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 501 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 501

تاریخ احمدیت - جلد ۶ ۴۸۷ پرائیویٹ مجالس میں پولیس کی بے جامد اخلت دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے ساتھ پولیس نے پرائیویٹ مجالس میں بھی مداخلت شروع کر دی۔چنانچہ ۲۷/ فروری ۱۹۳۵ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں جماعت دہم کے طلباء کو الوداعی پارٹی دی گئی جس میں پولیس کے قریباً نصف درجن آدمی آدھمکے۔ان دنوں حضرت بابا محمد حسن صاحب ایک مکان میں مستورات کو درس قرآن دیا کرتے تھے ایک دن درس کے وقت دو سپاہی اس مکان کے بالا خانہ میں چھپ کر بیٹھ گئے اور مستورات کو جھانکنے لگے۔۳ اپریل ۱۹۳۵ء کو محلہ دار الرحمت کے بچوں کی انجمن "حزب اللہ " کا ایک پرائیویٹ مکان میں جلسہ تھا کہ پولیس کے باوردی اور بے دردی افسروں اور سپاہیوں کی ایک بھاری تعداد نواحی دیہات کے نمبرداروں ذیلداروں اور پٹواریوں کو ساتھ لے کر وہاں جا گھسی۔بچوں نے عرض کیا کہ یہ ہمارا پرائیویٹ جلسہ ہے اور خالص مذہبی میٹنگ ہے۔مگر پولیس نے فور اعلاقہ مجسٹریٹ کا ایک حکم پیش کر دیا جو زیر دفعہ کر معینل لاء امنڈ منٹ ایکٹ آف ۱۹۳۲ء کے تحت جاری کیا گیا تھا۔اگلے روز ۶ / اپریل کو مجلس ارشاد کے ایک پرائیویٹ جلسہ میں بھی پولیس نے مداخلت کی۔جس پر ایک احتجاجی قرار داد پاس کرنے کے بعد جلسہ برخاست کر دیا گیا۔اسی روز جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کی ایک دینی انجمن " بزم احمد " کا جلسہ منعقد ہوا۔جس میں داخلہ بذریعہ ٹکٹ رکھا گیا تھا۔کارروائی سے قبل ایک ہیڈ کانسٹیبل چار آدمیوں سمیت آموجود ہوئے جس کی وجہ سے یہاں بھی کارروائی بطور احتجاج بند کر دینی پڑی اور اسی دن " غرفته العلماء میں مولوی فاضل کلاس کا درس دیا جا رہا تھا کہ رات کے دس بجے ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک کانسٹیبل (باوردی) ہتھکڑیاں لئے ایک نمبردار اور پٹواری سمیت مجسٹریٹ علاقہ کا آرڈر لے کر اندر داخل ہو گئے اور کہنے لگے کہ اپنی کارروائی سے آگاہ کرو۔طلباء نے کہا کہ درس جاری ہے آپ بھی سن لیں۔آخر وہ تھوڑی دیر بیٹھ کر چل دیئے۔۶/ اپریل ۱۹۳۵ء ہی کو چھوٹے بچوں کی " بزم بشیر " کا ایک تبلیغی جلسہ ایک پرائیویٹ احاطہ میں منعقد ہوا جلسہ کا ابھی آغاز بھی نہیں ہوا تھا کہ ایک ہیڈ کانسٹیبل آگیا جس کی وجہ سے کارروائی احتجاجاملتوی کر دینا پڑی - 1 دفعہ ۱۴۴ کے دوران ایک حد درجہ اشتعال انگیز پوسٹر قادیان کی ایک اشتعال انگیز پوسٹر ایک عام گزر گاہ پر لگایا گیا جس میں احمدیوں کو قتل کرنے ان کے اموال کو زبر دستی لوٹ لینے اور احمدی خواتین کو اغوا کر لینے کی تحریک کی گئی تھی۔جماعت احمدیہ نے