تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 499
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۴۸۵ کسی کو نہیں بچا سکتی۔اور نہ کوئی اور طاقت ہے جو خدا کی گرفت سے بچا سکے۔اگر یہی حالت جاری رہی اور کسی دن بد دعا نکل گئی تو حکومت دیکھ لے گی کہ اپنے تمام سامانوں اور اپنی تمام حفاظتوں کے باوجود ان کو بچا نہ سکے گی۔ہمارا خدا ظلم اور نا انصافی کرنے والوں کو دیکھ رہا ہے وہ ہمارے زخمی قلوب اور ان بچانہ میں جو جذبات ہیں ان کو دیکھتا ہے پھر ہمارے صبر کو دیکھتا ہے آخر وہ ایک دن اپنا فیصلہ نافذ کرے گا۔اور پھر دنیا دیکھ لے گی کہ کیا کچھ رونما ہوتا ہے۔ہمارا حکومت سے کوئی ٹکراؤ نہیں۔اس کا میدان عمل اور ہے اور ہمارا اور ہے لیکن اگر وہ خود ہم سے ٹکرائے گی تو اس کا وہی حال ہو گا جو کونے کے پتھر سے ٹکرانے والے کا ہوتا ہے"۔جوں جوں جماعت احمدیہ کے خلاف احرار کی متعصب ہند و سپرنٹنڈنٹ پولیس کا تقرر ایذارسانیاں بڑھتی گئیں قادیان میں پولیس کی جمعیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا حتی کہ سپاہیوں کی تعداد ایک سو پچیس تک پہنچ گئی۔معمولی پولیس کے علاوہ ملٹری پولیس بھی رکھی گئی اور ۱۷/ جنوری ۱۹۳۵ء کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ انچارج پولیس قادیان کے طور پر ایک متعصب ہندو لالہ جواہر لال صاحب تعینات کر دیے گئے۔مظالم کا طوفان چونکہ بڑھتا جا رہا تھا اور حکومت اس کے آل انڈیا نیشنل لیگ کا قیام تدارک کے لئے نہ صرف مجرمانہ غفلت برت رہی تھی۔بلکہ فتنہ پردازوں کی پیٹھ ٹھونکنے میں مصروف تھی۔اس لئے جماعتی حقوق کی حفاظت کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اجازت سے لاہور میں ۲۵/ جنوری ۱۹۳۵ء کو آل انڈیا نیشنل لیگ کے نام سے ایک علیحدہ سیاسی انجمن قائم کی گئی۔یہ قدم حکومت کی ظالمانہ روش کے نتیجہ میں مجبوراً اٹھایا گیا تھا اور اس لئے حضرت اقدس نے بہت تامل کے بعد اس کی منظوری دی تھی۔چنانچہ فرمایا۔22 میں جماعت کو سیاسیات بلکہ سیاسی امور کے مشابہ باتوں سے بھی روکتا رہا ہوں۔لیکن موجودہ حکومت چونکہ صداقت اور راستی کے مقابلہ میں ایجی ٹیشن سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اور ایک شخص کے ہاتھ پر خواہ دس کروڑ انسانوں نے بیعت کر رکھی ہو پھر بھی اس کی آواز کو ایک فرد واحد کی آواز قرار دے کر اس سے بے اعتنائی برتی ہے اور جب کسی امر کی طرف توجہ دلائی جائے تو اس کی طرف سے یہی جواب دیا جاتا ہے کہ اس کے متعلق پبلک میں کوئی ایجی ٹیشن نہیں۔اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر وہ جماعت جو یہ سمجھتی ہے کہ اس کے حالات ایسے ہیں کہ اسے قانونی حد کے اندر رہتے ہوئے حکومت کے پاس اپنا معاملہ پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہئے اسے لازم ہے کہ وہ موجودہ انجمن سے الگ ایک ایسی انجمن بنائے جس میں کوئی سرکاری ملازم نہ ہو "۔