تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 494 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 494

تاریخ احمدیت۔جلد ۷ ۴۸۰ مقدمہ میں ریکارڈ میرے ذریعہ منگوایا کرے گی۔عدالت اور مدعی دونوں اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے اور مجھے ریکارڈ نہ لانے کے الزام سے بری قرار دیا۔اب حکومت نے یہ طریق اختیار کیا ہے مگر آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس اصل کو اگر جماعت تسلیم کرلے تو ہر دیوانی مقدمہ میں یا فوجداری مقدمہ میں ہر مجسٹریٹ مجاز ہو گا کہ بجائے صدرانجمن کے کارکنوں کو بلوانے کے مجھے بلوالیا کرے۔کیا اس طرح جماعت کا کام چل سکتا ہے؟ بلکہ اس اصل کو تسلیم کر کے کہ چونکہ صدر انجمن احمد یہ میرے حکم کے تابع ہے اس لئے اس کے خلاف نوٹس جاری کرنے کی جگہ مجھے نوٹس دیا جا سکتا ہے۔ہر احمدی کے خلاف جو مقدمہ ہو اس کے بارہ میں مجھے بلوایا جا سکتا ہے۔پس یہ ایک ایسی غلطی ہے جسے جماعت احمدیہ کسی طرح برداشت نہیں کر سکتی اور اس کا ازالہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ حکومت تسلیم کرے کہ اس سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ بجائے ناظر امور عامہ پر نوٹس سرد کرنے کے جن کے دستخطوں سے سرکلر کیا تھا امام جماعت احمدیہ پر نوٹس سرو کیا گیا اس صورت میں اختلاف صرف قانونی رہ جائے گا جسے کو نسلوں میں اور باہمی مبادلہ خیالات سے دور کیا جا سکتا ہے مگر موجودہ پوزیشن تو یہ ہے کہ حکومت اس پر تو افسوس کرتی ہے کہ مجبوری کی حالت میں آپ کو نوٹس دیتا پڑا اور یہ تسلیم نہیں کرتی کہ اس نے کسی کے جرم کو کسی کی طرف منسوب کرنے میں غلطی کی ہے۔پس حکومت کا اظہار افسوس اصل مقصد کے لئے ہر گز مفید نہیں۔اور بہت سی باتیں ہیں جو حل طلب ہیں لیکن اصولی سوال یہ ہے کہ میں آپ ہی کو ثالث تسلیم کر لیتا ہوں آپ حکومت اور میرے نقطہ نگاہ کو سن کر جو فیصلہ کریں۔میں اسے منظور کرلوں گا۔میں تو حکومت سے نہیں لڑنا چاہتا مگر حکومت اگر ہمیں ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دے کہ جہاں کھڑے ہو کر جماعت کی ہستی ہی خطرہ میں پڑ جاتی ہو تو آپ فرما ئیں میں کیا کروں؟ میرا پروگرام یہی ہے کہ پہلے حکومت پنجاب سے اپیل کروں گا۔پھر حکومت ہند سے پھر حکومت انگلستان سے اگر کہیں داد خواہی نہ ہوئی پھر جو علاج ممکن ہوا کروں گا"۔خط کے آخر میں حضور نے تحریر فرمایا۔”میرے نزدیک حکومت سے اس بارہ میں ایک اور غلطی ہوئی ہے۔اس نے احمدیوں کے لئے ایک نیا سوال پیدا کر دیا ہے اور وہ یہ کہ کیا وہ خلیفہ کے حکم کے تابع ہیں یا اس حکم کے بھی جو خلیفہ کو حکومت کی طرف سے ملے ؟ چنانچہ جب اس بارہ میں مشورہ کے لئے قانون دان جمع ہوئے تو پیرا کبر علی صاحب ایم ایل سی نے فوراً کہا تھا کہ میں نے خلیفہ کی بیعت کی ہے مسٹر گاربٹ کی تو نہیں کی۔جب بھی یہ معلوم ہو گا کہ حکومت نے جبرا ایک حکم دلایا ہے تو ہم کبھی بھی اس کی اطاعت نہیں کریں گے۔