تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 493
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ سید نا حضرت امیر المومنین کا ایک مکتوب میاں فضل حسین صاحب رکن ایگزیکٹو کونسل وائسرائے ہند کو حکومت پنجاب کے نوٹس وغیرہ میاں فضل حسین صاحب کے نا کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے چوہدری ظفر اللہ خاں کے ذریعہ سے حضور اقدس کی خدمت میں یہ مشورہ دیا کہ اس نازک معاملہ میں جلدی نہ کی جائے۔نیز تحریک کی کہ اس وقت تک آپ اپنے خاص اعلان کو ملتوی رکھیں جب تک باہمی غلط فہمیوں کے دور کرنے کی کوشش نہ کرلی جائے۔اس پر حضور انور نے میاں صاحب موصوف کے نام ۲/ نومبر ۱۹۳۴ء کو ایک مفصل خط لکھا جس میں تحریر فرمایا۔اگر جماعت اس فعل کو بلا احتجاج اور اصلاح چھوڑ دے تو امام جماعت احمد یہ کوئی کام کرہی نہیں سکتا۔سلسلہ کے ہر افسر کی غلطی پر اسے نوٹس ملے گا۔ہر احمدی کی غلطی پر اسے نوٹس ملے گا۔وہ تو صرف نوٹسوں کا ہدف بنا رہے گا۔وہ اور کام نہ کر سکے گا۔جماعت احمدیہ ہر گز اس امر کی مدعی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو یا اپنے امام کو حکومت کی رعایا ہونے کے مقام سے بالا سمجھتی ہے نہ میں بحیثیت امام جماعت احمد یہ اپنے آپ کو قانون سے بالا سمجھتا ہوں میرا نظریہ یہ ہے کہ مجھے دوسروں سے زیادہ قانون کا پابند ہونا چاہئے تاکہ میں دوسروں کے لئے نمونہ بنوں لیکن میں اس امر کا مدعی ضرور ہوں کہ قانونی نقطہ نگاہ سے مجھے صرف میرے فعل کا ذمہ دار قرار دیا جائے۔دوسروں کے فعل کا ذمہ دار نہ قرار دیا جائے۔جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ دوسروں نے وہ فعل میرے کہنے پر کیا ہے پس جبکہ نوٹس میرے حکم کے بغیر تھا اور مجھے اس کا علم بھی بعد میں ہوا۔پھر وہ ایک ایسے افسر کی طرف سے تھا جو جماعت کے نظام کے ماتحت آزادنہ طور پر ایسا حکم دے سکتا تھا اور حکومت کو اس کا علم تھا کہ نوٹس پر ایک ناظر کے دستخط ہیں۔کیونکہ اس کے پاس سرکلر کی کاپی موجود تھی جیسا کہ مرزا معراج الدین صاحب نے مجھ سے ذکر کیا تھا۔پس کیوں انہوں نے نوٹس صدرانجمن احمدیہ کے جو رجسٹر ڈ باڈی ہے اس افسر کو نہ دیا جو اپنے محکمہ کا کامل ذمہ دار ہے اور اپنی ذمہ داری سے کبھی منکر نہ ہوا۔چند ماہ ہوئے مجھے ایک سینیئر سب جج نے سمن کے ذریعہ سے ایک دیوانی کے مقدمہ میں بلوایا اور لکھا کہ صدرانجمن احمدیہ کے فلاں فلاں ریکارڈ آپ ساتھ لیتے آدیں۔میں حاضر عدالت ہوا۔مگر ریکارڈ نہ لے گیا اور جب عدالت نے مجھ سے پوچھا تو میں نے بتایا کہ میں ریکارڈ نہیں لایا اور یہ سوال وکیل کہا کہ مجھے اطلاع مل چکی تھی لیکن چونکہ نہ میں صدر انجمن احمدیہ کا ممبر ہوں نہ صدر نہ سیکر ٹری اس لئے کوئی وجہ نہ تھی کہ میں ریکار ڈلا تا اگر آپ کو ریکارڈ منگوانا تھا تو اس کے کسی افسر کو بلواتے اس پر وکیل مدعی نے کہا کہ آپ لانہ سکتے تھے ؟ میں نے جواب دیا کہ میں اس طرح لا سکتا تھا کہ جس طرح ہر احمدی کا ریکار ڈلا سکتا تھا۔لیکن کیا عدالت ہر احمدی کا دیوانی