تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 32
تاریخ احمدیت جلد ۶ ٣٢ وائسرائے ہند کی کونسل کی ممبری کا عمدہ مسلمان کی بجائے قادیانی کو دیا گیا ہے اور کسی مسلمان نے چوں تک نہیں کی۔دراصل ہندوؤں کی اول یہ کوشش ہوتی تھی کہ کسی سرکاری عہدہ پر کوئی مسلمان مقرر ہی نہ ہو لیکن جب اس میں انہیں کامیابی کی صورت نظر نہ آتی تو وہ چاہتے کہ کوئی اعلیٰ عہدہ کسی قابل مسلمان کو نہ دیا جائے بلکہ ایسے شخص کے سپرد ہو جو ان کی چالبازیوں سے آگاہ نہ ہو سکے اور نہ ان کا توڑ کر سکے۔چوہدری صاحب کے معاملہ میں چونکہ اس وقت تک خصوصا گول میز کانفرنس میں انہیں سخت ناکامی ہوئی تھی اسی بناء پر وہ یہ لکھ رہے تھے کہ "چونکہ ظفر اللہ خان فرقہ پرستی میں کسی بھی فرقہ پرست مسلمان سے پیچھے نہیں"۔فرقہ پرستی سے ہندوؤں کی مراد مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت ہوتی تھی۔۔۔۔پنڈت نہرو نے چوہدری صاحب اور دوسرے مسلمان لیڈروں کی نسبت اپنی کتاب ” میری کہانی" میں یہاں تک لکھا تھا۔" وطن پرستی کی مخالفت اور رجعت پسندی کی غیر معمولی نمائش گول میز کانفرنس میں ہوئی۔برطانوی حکومت نے چن چن کر صرف فرقہ پرست مسلمانوں کو نامزد کرنے پر اصرار کیا تھا اور یہ لوگ آغا خان کی قیادت میں بڑے بڑے رجعت پسندوں سے جاکر مل گئے جو نہ صرف ہندوستان کے بلکہ تمام ترقی پسندوں کے نقطہ نظر سے برطانیہ کی سیاسی زندگی میں سب سے خطرناک عناصر سمجھے جاتے ہیں "۔ان حالات میں چونکہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب جیسی شخصیت کا تقرر جو پنڈت جواہر لال صاحب نہرو اور دوسرے کانگرسی ہندوؤں کی نگاہ میں کٹر ” فرقہ پرست تھا کا نگرسی عزائم کے لئے ایک عظیم خطرہ اور ایک عظیم چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا اس لئے کانگریس کے ہو شیار سیاستدانوں نے " قادیانی" اور "غیر قادیانی کا سوال اٹھا کر مسلمانوں کو الجھانے اور ان کی صفوں میں انتشار اور فتنہ برپا کرنے کا فیصلہ کر لیا جس کا پہلی بار انشاء ” پر کاش " ہی نے کیا اور اس کو عملی جامہ پہنچانے کا بیڑہ کانگریس کے آلہ کار اور ہمنو امولویوں نے اٹھایا جیسا کہ آئندہ کے حالات سے پتہ چلے گا۔مخالفت کا حقیقی سبب حقیقت یہ ہے کہ ہندو پریس پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو چکی تھی کہ جماعت احمدیہ مسلمانوں کے سیاسی اور ملکی حقوق کی حفاظت کے لئے میدان عمل میں آچکی ہے اور اب ہندوؤں کے لئے مسلمانوں کے حقوق غصب کرنا اتنا آسان نہیں رہا جتنا پہلے تھا اسی وجہ سے وہ بات بات میں جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ فتنہ پیدا کرنے پر اتر آئے تھے اور خصوصاً چوہدری صاحب کے عارضی تقرر پر جبکہ مسلمانوں کے خیر مقدم نے انہیں محسوس کرا دیا تھا کہ چوہدری صاحب پر مسلمان اعتماد رکھتے ہیں اور انہیں اس اعزاز کا