تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 31
تاریخ احمدیت جلد ؟ ۳۱ | 14 اچھے نکلیں گے اگر تمام کارکن اس روح کے ساتھ کام کریں تو بہت جلد ترقی ہو سکتی ہے "۔چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کا تقرر آنریبل میاں سر فضل حسین صاحب وسط ماه وائسرائے ہند کی ایگزیکٹو کونسل میں جون ۱۹۳۲ء میں خرابی صحت کے باعث رخصت پر جارہے تھے حکومت نے ان کی جگہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو گورنر جنرل کی ایگزیکٹو کونسل کے عارضی رکن کی حیثیت سے نامزد کر دیا اور آپ محکمہ تعلیم و صحت داراضیات کے انچارج مقرر کر دیئے گئے۔اس انتخاب پر ملک کے متین و سنجیدہ حلقوں نے بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور چوہدری صاحب کی قابلیت اور لیاقت کا اقرار کیا۔چنانچہ پیسہ اخبار ۱۹/ مئی ۱۹۳۲ء نے لکھا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب رکن گول میز کانفرنس جو مقدمہ سازش دہلی میں سرکاری وکیل کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔سر فضل حسین کی جگہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے قائم مقام ممبر ہوں گے آپ پہلے پہل سرشہاب الدین کے قانونی رسالہ انڈین کیسز کے اسٹنٹ ایڈیٹر تھے۔آپ نے انہیں قانونی پریکٹس کا مشورہ دیا۔جس میں آپ کو کافی کامیابی اور شہرت حاصل ہوئی یہی وجہ تھی کہ آپ مقدمہ سازش دہلی میں سرکاری وکیل مقرر ہوئے اور گول میز کانفرنس کے رکن بھی مقرر کئے گئے گول میز کانفرنس میں آپ کی تقریریں خاص طور سے جاذب تھیں مسلمانوں کو ان کے ذاتی عقیدہ سے خواہ کتنا ہی اختلاف ہو مگر ان کی قابلیت اور لیاقت کا زمانہ قائل ہے امید ہے کہ سر فضل حسین کی جگہ آپ ایگزیٹو کونسل کی رکنیت کے فرائض بوجہ احسن ادا کریں گے اور عام مسلمانوں کے تحفظ حقوق کا کما حقہ خیال رکھیں گے"۔اسلامی پریس کے مقابل ہندو پریس نے جس میں "پر کاش “ اور ہندو پریس کی شدید مخالفت وٹر میو دن " پیش پیش تھے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے تقرر کی زبر دست مخالفت کی۔بلکہ مسلمانوں کو مشتعل کیا کہ انہوں نے خاموشی سے اس نامزدگی کو کیوں برداشت کر لیا جبکہ چوہدری صاحب سرے سے مسلمان ہی نہیں ہیں۔چنانچہ " پر کاش“ (۲۹/ مئی ۱۹۳۲ء) نے لکھا۔مسلمان اپنا حق سمجھتے ہیں کہ جس عہدے پر ایک بار کوئی مسلمان تعینات ہو جائے پھر اس پر کوئی اور مقرر نہیں کیا جانا چاہئے۔وہ مسلمانوں کا موروثی حق ہو چکا ہے عام طور پر مسلمانوں کی جگہ مسلمان مقرر ہوتے ہیں لیکن اگر کسی حالت میں اس قاعدہ کی خلاف ورزی ہو جائے تو مسلمان اس کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ سر فضل حسین کی رخصت پر جانے کی حالت میں