تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 487 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 487

تاریخ احمدیت - جلد کر دے گا۔ان دونوں حدود کے اندر رہتے ہوئے تمہیں ہر قسم کی قربانی کرنی ہوگی اور سلسلہ کے وقار کو قائم کرنے کے لئے ہر ایک جد و جہد کرنی پڑے گی"۔پھر فرمایا۔غرض دو فرمانبرداریاں ہیں جن کا میں مطالبہ کرتا ہوں۔ان میں سے ایک تو ساری دنیا کو متحد کرنے والی ہے اور دوسری وقتی اور حالات کے مطابق بدلتی رہنے والی ہے۔پہلی فرمانبرداری میری ہے جو خدا اور اس کے رسول کے ماتحت ہے کیونکہ میں صرف ہندوستان کے لوگوں کا ہی خلیفہ نہیں۔میں خلیفہ ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور اس لئے خلیفہ ہوں افغانستان کے لوگوں کے لئے عرب ایران ، چین، جاپان ، یورپ امریکہ افریقہ سماٹرا، جاوا اور خود انگلستان کے لئے۔غرض کہ کل جہان کے لوگوں کے لئے میں خلیفہ ہوں۔اس بارے میں اہل انگلستان بھی میرے تابع ہیں دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں جس پر میری مذہبی حکومت نہیں سب کے لئے یہی حکم ہے کہ میری بیعت کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں داخل ہوں لیکن دوسرا حکم وقتی ہے اور حالات کے ماتحت بدلتا رہتا ہے آج یہاں انگریزوں کی حکومت ہے اور اس کے وفادار ہیں لیکن کل یہ بدل گئی تو ہم اس نئی حکومت کے فرمانبردار ہوں گے اس کے بالمقابل خلافت نہیں بدل سکتی۔اس وقت میں خلیفہ ہوں اور میری موت سے پہلے کوئی دوسرا خلیفہ نہیں ہو سکتا اور تمام دنیا کے احمدیوں کے لئے میری ہی اطاعت فرض ہے۔ہندوستانیوں پر بھی میری اطاعت ویسی ہی فرض ہے جیسے اہل ایران یا اہل امریکہ یا دنیا کے کسی دوسرے ملک کے رہنے والوں پر لیکن ان کے لئے انگریزوں کی اطاعت فرض نہیں۔اہل افغانستان پر میری اطاعت فرض ہے مگر انگریزوں کی نہیں بلکہ ان کی جگہ اپنی حکومت کی اطاعت فرض ہے۔اسی طرح اہل امریکہ پر میری اطاعت فرض ہے مگر انگریزوں کی نہیں۔اس اطاعت میں احمدی متفرق ہیں۔لیکن میری اطاعت پر سب متفق ہیں۔افغان ایرانی ، ڈچ، شامی مصری وغیرہ اپنے اپنے ہاں کی حکومتوں کے مطیع ہیں مگروہ مرکزی نقطہ جس پر سب متفق ہیں وہ میری اطاعت ہے اس میں جو تفرقہ کرتا ہے وہ فاسق ہے اور جماعت کا نمبر نہیں"۔حکومت پنجاب کے غیر منصفانہ نوٹس احرار کانفرنس کے سلسلہ میں حکومت پنجاب نے کے خلاف حضرت امیر المومنین کا جو بے انصافیاں کی تھیں ان میں سب سے نمایاں وہ جابرانہ اور ظالمانہ نوٹس تھا جو اس کے چیف زبردست احتجاج رض سیکرٹری نے سیکشن ۳ (۱) (D) پنجاب کر سمیتل لاء امنڈمنٹ ایکٹ ۱۹۳۲ء کے تحت جماعت احمدیہ کے مقدس قائد د راہ نما کو دیا۔اس ایکٹ کی تمہید میں