تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 488 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 488

تاریخ احمد بیت۔لکھا ہے کہ یہ سول نافرمانی اور حکومت برطانیہ کو تہ و بالا کر دینے والی تحریکات کو روکنے کے لئے ہے۔گویا بالفاظ دیگر حکومت پنجاب نے یہ الزام لگایا کہ حضرت امام جماعت احمد یہ سول نافرمانی کرنے یا حکومت برطانیہ کا تختہ الٹنے کی تحریک کرنے والے ہیں۔حکومت کی یہ خلاف آئین اور تشدد آمیز کارروائی چونکہ آئندہ خطرناک فتنوں کا پیش خیمہ ہو سکتی تھی اور جماعت کے کسی افسر یا کسی کارکن کی کسی بات پر براہ راست خلیفہ وقت کو زیر التزام لانے کے لئے اسے ایک موثر بنیاد بنایا جا سکتا تھا۔اس لئے کشتی احمدیت کے ناخدا اور خدا تعالی کے اولوالعزم خلیفہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ہر قسم کے عواقب و خطرات سے بے نیاز ہوکر سینہ سپر ہو گئے اور حکومت پنجاب کے اس نوٹس پر زبر دست احتجاج کیا۔چنانچہ حضور نے ۲۶/ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو مرزا معراج الدین صاحب کے قادیان آنے اور قادیان میں احمدیوں کے بلوائے جانے سے متعلق سرکلر کی منسوخی وغیرہ کے واقعات بڑے شرح و بسط سے بیان کرنے کے بعد فرمایا۔ان واقعات سے ظاہر ہے کہ اول میں نے جو ہدایت آدمی بلانے کے لئے دی تھی اس کے ماتحت احکام جاری ہی نہیں ہوئے اور اجراء سے قبل ہی ہدایت منسوخ کر دی گئی۔(۲) ہمیں حکومت نے کبھی بھی آدمی بلانے سے منع نہیں کیا۔اس لئے سول نافرمانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔(۳) جو دعوت جاری کی گئی وہ ناظر امور عامہ کی حیثیت سے تھی (۴) ناظر جتنے ہیں سب صدر انجمن کے ٹرسٹی ہیں اور اپنے اپنے محکمہ کے قانونا بھی اخلاقا بھی مذہبا اور ہمارے نظام کی رو سے بھی پورے پورے ذمہ دار ہیں حتی کہ نظام سلسلہ انہیں یہاں تک ذمہ دار قرار دیتا ہے کہ اگر کوئی ناظر خلیفہ وقت کے مشورہ سے بھی کوئی کام کرے۔تب بھی ذمہ دار وہی ہے مشورہ پر ائیو نیٹ سمجھا جائے گا۔اور یہاں تک حکم ہے کہ اگر ناظر کوئی پرائیویٹ مشورہ لے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔اور وہ اس کی طرف اشارہ بھی نہیں کر سکتا۔ساری ذمہ داری اسی پر ہے سوائے اس کے کہ خلیفہ کا تحریری حکم اس کے پاس موجود ہو۔بلکہ یہاں تک اس بارہ میں پابندی ہے کہ اگر کوئی ناظر غفلت سے تحریری حکم نہ لے اور اس فعل کو خلیفہ کی طرف منسوب کر دے تو وہ اعتماد کو توڑنے والا اور مستوجب سزا ہو گا۔اور ان تمام مذہبی اور قانونی ذمہ داریوں کے مطابق یہ امر واضح ہے کہ ناظر امور عامہ نے جو آرڈر دیا وہ اس کا ذاتی فعل تھا۔مجھ سے اس میں مشورہ بھی نہیں کیا گیا تھا اور اگر کیا بھی جاتا تو بھی وہ بحیثیت ناظر کے نہیں بلکہ ذاتی فرد کی حیثیت سے ہو تا اور اگر کوئی نقصان ہو جاتا تو وہ میرا حوالہ بھی نہیں دے سکتا تھا۔(۵) صدرانجمن ایک باقاعدہ رجسٹر ڈ باڈی ہے اور وہ اس کے ماتحت براہ راست حکومت کے سامنے ذمہ دار ہے۔(۶) یہ