تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 486 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 486

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ، آپ کے ذریعہ آنحضرت ا کی اور ان کے ذریعہ خدا کی بیعت کی ہے وہ اپنی جان مال عزت آبرو اولاد جاندار غرضیکہ ہر چیز خدا رسول اور اس کے نمائندوں کے لئے قربان کر چکا ہے اور اب کوئی چیز اس کی اپنی نہیں۔میں یہ کھول کر بتا دینا چاہتا ہوں کہ جس کے دل میں بیعت کے اس مفہوم کے متعلق ذرہ بھی شبہ ہے وہ اگر منافق کہلانا نہیں چاہتا۔تو وہ اب بھی بیعت کو چھوڑ دے جس بیعت میں نفاق ہو وہ کسی فائدہ کا موجب نہیں ہو سکتی۔بلکہ وہ ایک لعنت ہے جو اس کے گلے میں پڑی ہوئی ہے پس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس نے میری بیعت کسی شرط کے ساتھ کی ہوئی ہے اور کوئی چیز اس کی اپنی باقی ہے اور اس کے لئے میری اطاعت مشروط ہے وہ میری بیعت میں نہیں اور میں تمام کے سامنے اور پھر اخباروں میں اس خطبہ کی اشاعت کے بعد ان لاکھوں لوگوں کو جو دنیا کے گوشہ گوشہ میں رہتے ہیں صاف صاف الفاظ میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کے دل میں کوئی استشنی باقی ہے تو میں اسے اپنی بیعت میں نہیں سمجھتا۔میرا خدا گواہ ہے اور آپ لوگ جو سن رہے ہیں آپ بھی گواہ ہیں کہ میں نے یہ بات پہنچادی ہے۔کیا پہنچادی ہے ؟ (اس پر چاروں طرف سے آواز میں بلند ہو ئیں کہ ہاں پہنچادی ہے) میرا خدا گواہ ہے اور آپ لوگ مقر ہیں کہ میں نے یہ بات پہنچادی ہے که مشروط بیعت کوئی بیعت نہیں۔بیعت رہی ہے جس میں ہر چیز قربان کرنے کے لئے انسان تیار ہو۔پس میرا ہر حکم جو خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت ہو اور جس کے خلاف کوئی نص صریح موجود نہ ہوا سے ماننا آپ کا فرض ہے جب اجتہاد کا معاملہ آجائے تو وہی اجتہاد صحیح ہو گا جو میرا ہے اور اس میں لازماً پابندی کرنا آپ کا فرض ہے سوائے اس کے کہ کوئی مجھے مشورہ دے دے باقی تعمیل میں کوئی تامل نہیں ہو سکتا۔دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن کریم میں جہاں خدا رسول اور اس کے نمائندوں کی اطاعت کا حکم ہے وہیں اولی الامر کی اطاعت بھی ضروری قرار دی گئی ہے اور ان کی اطاعت بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے متواتر یہ تعلیم دی ہے۔آپ کی کوئی کتاب نہیں جس میں آپ نے یہ حکم نہ دیا ہو اور میں جس قدم پر آپ لوگوں کو لے جانا چاہتا ہوں وہ ایسا جوش پیدا کر دینے والا ہے کہ ممکن ہے کسی کو حکومت کی اطاعت میں بھی کوئی شک پیدا ہو جائے۔پس اگر کوئی اس سے آگے نکل جائے یا شبہ کرے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نافرمانی کرنے والا ہو گا۔اگر ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑا تو بالکل ممکن ہے ایک وقت تمہیں تلوار کی دھار پر چلنا پڑے۔ایک طرف تو میری اطاعت کے متعلق ذراسی خلش بیعت سے خارج کر دینے والی ہوگی اور دوسری طرف ذرا سا عدوان جو حکومت کی اطاعت سے برگشتہ کر دے تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم سے منحرف