تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 455 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 455

تاریخ احمدیت جلده اسلام سلام قانون شکنی بھی نہ کر رہے ہوں تو کسی کے نوٹ لینے پر ہمیں کیا شکوہ ہو سکتا ہے پس ہمارے آدمیوں نے نوٹ لینے شروع کر دیئے۔لیکن مجسٹریٹ صاحب نے ناظر امور عامہ اور لوکل پریذیڈنٹ کو یہ نوٹس دے دیا کہ گورنمنٹ کو اطلاع ملی ہے کہ احمد کی وہاں جا کر نوٹ لیتے ہیں۔آئندہ وہاں کوئی احمدی نہ جایا کرے۔اگر کوئی جائے گا تو اس کو زیر دفعہ ۰۷ ا ضابطہ فوجداری گرفتار کیا جائے گا۔حالانکہ صرف نوٹ لینا ایسا فعل نہیں ہے جو دفعہ ۱۰۷ کے ماتحت آئے اگر ایسا ہی ہو تو گو ر نمنٹ کو تمام کالجوں پر یہ لکھ کر لگا دینا چاہئے کہ آئندہ کوئی طالب علم نوٹ نہ لیا کرے۔ورنہ اس پر دفعہ ۱۰۷ کا نفاذ کر دیا جائے گا۔سوال یہ ہے کہ جو نوٹ لئے گئے وہ نیک باتوں کے تھے یا بری باتوں کے۔اگر نیک باتوں کے تھے تو اس پر اعتراض کیا اور اگر وہ بری باتیں تھیں تو گورنمنٹ اب تک خاموش کیوں رہی۔ناظر صاحب امور عامہ تو اس دن یہاں تھے نہیں لوکل پریذیڈنٹ سے مجسٹریٹ کے اس تحریری نوٹس پر دستخط کروائے گئے۔قانونی مشیروں کا مشورہ ہمیں یہی تھا کہ اس نوٹس کی خلاف ورزی کی جائے کیونکہ یہ نوٹس نا جائز اور قانون کے منشاء کے خلاف ہے۔مگر میں نے کہا کہ چونکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم گورنمنٹ کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔اس لئے گو نہایت اعلیٰ درجہ کے قانون دانوں نے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کو شامل کرتے ہوئے مجھے مشورہ دیا کہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں کیونکہ ہائیکورٹ کے متواتر فیصلے موجود ہیں کہ اگر جائز کام کرتے ہوئے کسی کو اشتعال آتا ہے تو گورنمنٹ کا فرض ہے کہ وہ اسے پکڑے جسے اشتعال آتا ہے نہ کہ جائز کام کرنے والے کو۔مگر ہماری طرف سے پھر بھی اس نوٹس کا احترام کیا گیا۔حالانکہ اگر دفعہ ۱۰۷ کا نفاذ جائز تھا تو احراریوں پر اس کا نفاذ ہونا چاہئے تھا۔لطیفہ یہ ہے کہ نوٹس میں یہ بھی فقرہ نہیں لکھا گیا کہ تم اشتعال دلاتے ہو بلکہ فقرہ یہ ہے کہ تم نوٹ لیتے ہو۔گویا تسلیم کیا گیا ہے کہ ہمارے آدمی صرف خاموشی سے نوٹ لیتے تھے اور مجسٹریٹ صاحب کی عجیب ذہنیت نے یہ فیصلہ کیا کہ اس سے احرار کو فوری اور جائز جوش آنے کا احتمال ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر کل مجسٹریٹ صاحب کے ذہن میں یہ بات آجائے کہ احمدیوں کے کوٹ پہنے یا عمامہ باندھنے پر احراریوں کو اشتعال آتا ہے۔تو کیا ثبوت کہ وہ کل کو ہمیں کوٹ پہنے اور عمامہ باندھنے سے نہیں روک دیں گے۔ہماری کونسی بات ہے جس پر احراریوں کو اشتعال نہیں آتا وہ تو ہماری ہر بات کو دیکھ کر جلتے بھنتے رہتے ہیں۔آج کل الیکشن ہے اس میں ووٹ دینے پر بھی انہیں اشتعال آتا ہے ہمارے مسلمان کہلانے پر بھی انہیں اشتعال آتا ہے ہم حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کو مسیح موعود مانتے ہیں اور انہیں جوش آتا ہے ہم انہیں نبی تسلیم کرتے ہیں تو انہیں غصہ آجاتا ہے ہر ایک شخص جو احمدیت میں داخل ہو تا ہے ان