تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 454 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 454

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۴۰ گوشت کھایا کرتے تھے۔میں نے جب یہ بات سنی تو مجھے طبعا برا معلوم ہوا اور میں نے سمجھا کہ اگر کسی احمدی نے ایسا کہا ہے تو اس نے غلطی کی کیونکہ ہم حضرت باو اصاحب کی طرف جو امور منسوب کرتے ہیں وہ ان کے شبدوں میں موجود ہیں۔مگر جہاں تک میرا علم ہے گو میں سکھوں کے مذہب کا زیادہ واقف نہیں ایسا کوئی شہد نہیں جس میں یہ ذکر ہو کہ باو اصاحب نے گائے کا گوشت کھایا پس اگر ایسا ہوا تو علاوہ اس کے کہ یہ ایک اشتعال انگیز فعل تھا خلاف واقعہ امر بھی تھا۔پس کارکنوں نے فورا تحقیقات کرائی تاکہ اگر کسی نے یہ غلطی کی ہے تو اس سے گرفت کی جائے لیکن معلوم ہوا کہ کسی احمدی نے یہ الفاظ نہیں کہے۔ہاں انہیں یہ شکوہ تھا کہ بادا صاحب کو مسلمان کہا گیا۔۔۔۔عرض اصل واقعہ بالکل کچھ اور نکلا۔جس میں باو اصاحب کی ہرگز ہتک نہیں تھی مگر گورنمنٹ کے محکمہ نے یہ کارروائی کی کہ رپورٹ کرتے ہوئے لکھ دیا کہ احمدیوں نے فی الواقعہ ایسا کہا تھا حالانکہ یہ بات تحقیقات سے غلط ثابت ہو چکی تھی پھر اندر ہی اندر کوئی کارروائی ہوتی رہی جس کے ظاہر کرنے پر نہ ہم تیار ہیں اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے۔غرض صرف یہ تھی کہ سکھ قوم میں جوش پھیلے۔حالانکہ اگر سکھوں کو اشتعال دلانے والی کوئی بات ہوتی تو میں خود احمدیوں کو سزا دیتا۔ساتواں واقعہ حراری اپنی مجلس میں ہماری جماعت پر طرح طرح کے اتمام لگاتے ہیں۔گندی سے گندی گالیاں دیتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہایت برے الفاظ میں یاد کرتے ہیں یہ رپورٹیں پولیس کی طرف سے جاتی ہیں۔مگر گورنمنٹ کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔اس پر قدرتی طور پر ہمارے بعض نوجوانوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ہم بھی ان کی تقریروں کے نوٹ لے لیا کریں۔چنانچہ بعض نے ایسا کیا۔وہ صرف نوٹ لیتے تھے زبانی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ہمارے جلسوں میں بھی پولیس بھی اور دو سرے لوگ بھی باقاعدہ آتے ہیں اور نوٹ لیتے ہیں مگر ہم نے کبھی برا نہیں منایا۔ایک دن تو غلطی سے پولیس والا اپنی وردی ہی میں آکر میرے خطبہ کو لکھنے کے لئے مسجد میں بیٹھ گیا۔حالانکہ ایسے موقعوں پر مسجد میں ان کو دردی پہن کر آنے کا حکم نہیں۔بہر حال ہمیں پتہ ہے کہ وہ ہماری تقریروں کے نوٹ لے جاتے ہیں بلکہ ہم خود تیار ہیں کہ اگر بعض نوٹ ان کے رہ جائیں تو وہ ہم سے پوچھ لیں۔پس تقریروں کے نوٹ لینے میں کوئی حرج نہیں جلسہ سالانہ کے ایام میں سینکڑوں لوگ جن میں ہندو اور سکھ بھی ہوتے ہیں میری تقریروں کے نوٹ لیتے ہیں اور مجھے اس سے کبھی تکلیف نہیں ہوئی بلکہ خوشی ہوتی ہے کہ لوگ ان باتوں کو دہرائیں گے اور یہ صاف بات ہے کہ اچھی بات کے نوٹ لئے جانے پر گھبراہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی اور جبکہ ہم